جوانی کے غصے سے بڑھاپے کے سکون تک: خواتین کیسے بدلتی ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وقت کے ساتھ ساتھ جہاں انسان کے جسمانی خدوخال میں تبدیلی آتی ہے، وہیں جذبات، احساسات اور رویے بھی بالغ اور متوازن ہونے لگتے ہیں۔ خاص طور پر خواتین کی نفسیات میں عمر کے ساتھ جو مثبت تبدیلی آتی ہے، وہ حیران کن اور قابلِ ستائش ہے۔
نئی سائنسی تحقیقات سے یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ خواتین میں عمر بڑھنے کے ساتھ غصے کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آتی ہے۔
نوجوانی اور جوانی کے ایام میں خواتین کو اکثر ہارمونی اتار چڑھاؤ، خاندانی اور سماجی دباؤ، اور خود اعتمادی کی تشکیل جیسے چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے۔ ان عوامل کے نتیجے میں ان کے جذبات میں شدت، فوری ردعمل اور بعض اوقات چڑچڑاپن دیکھا جا سکتا ہے۔ مگر جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے، تجربات، مشاہدات اور سمجھ بوجھ ایک نیا زاویہ اختیار کرتی ہے۔
سائنس بتاتی ہے کہ ایسٹروجن اور پروجیسٹرون جیسے ہارمونز خواتین کے مزاج پر گہرا اثر ڈالتے ہیں، خصوصاً تولیدی عمر کے دوران۔ ان کی سطحوں میں آنے والا اتار چڑھاؤ اکثر موڈ کے بدلنے، چڑچڑاہٹ اور غصے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے،تاہم عمر کے ساتھ جب ہارمونز کی سطحیں مستحکم ہونے لگتی ہیں تو اس کا اثر جذبات پر بھی پڑتا ہے ۔ خواتین زیادہ متوازن، تحمل مزاج اور معاملہ فہم ہو جاتی ہیں۔
عمر کے ساتھ ایک اور اہم پہلو خود آگاہی اور ذہنی بلوغت ہے۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق بالغ خواتین عام طور پر یہ سمجھ جاتی ہیں کہ کب جذباتی ردعمل دینا ہے اور کب خاموش رہنا زیادہ بہتر ہے۔ وہ جان لیتی ہیں کہ ہر بات پر ردعمل دینا وقت اور توانائی کا ضیاع ہے اور خاموشی یا مسکراہٹ بعض اوقات سب سے طاقتور جواب ہوتی ہے۔
ایک جرمن تحقیق کے مطابق 40 سال سے زائد عمر کی خواتین میں غصے کو کنٹرول کرنے کی شرح نوجوان خواتین کی نسبت 30 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔ اس تحقیق میں انکشاف ہوا کہ بالغ خواتین معمولی اختلافات کو سنجیدہ مسئلہ نہیں بناتیں بلکہ انہیں حکمت، صبر اور تجربے سے حل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
اسی طرح ایک امریکی مطالعے میں پایا گیا کہ 60 سال سے زائد عمر کی خواتین زیادہ پر سکون، برداشت کرنے والی اور مفاہمت پسند ہوتی ہیں۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کرنے کا ہنر سیکھ چکی ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے وہ ذہنی طور پر بھی زیادہ پرسکون رہتی ہیں۔
نوجوان خواتین کو اکثر معاشرتی دباؤ، خاندانی توقعات اور خود کو منوانے کی جدوجہد کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ تمام عوامل ان کی ذہنی کیفیت کو متاثر کرتے ہیں،لیکن عمر کے ساتھ یہ دباؤ یا تو کم ہو جاتے ہیں یا ان سے نبرد آزما ہونے کی حکمت آ جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں خواتین کی شخصیت نکھرتی ہے ۔ ایک ایسے تجربہ کار وجود کی صورت میں جو جانتا ہے کہ زندگی میں سکون، تعلقات اور جذبات میں توازن ہی اصل دولت ہے۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ عمر رسیدہ خواتین نہ صرف جذباتی طور پر پختہ ہوتی ہیں بلکہ وہ غصے جیسے پیچیدہ جذبے پر بھی زیادہ بہتر کنٹرول رکھتی ہیں۔ ان کے رویے میں ٹھہراؤ، فیصلوں میں دانائی اور ردعمل میں توازن ہوتا ہے، جو نہ صرف ان کے لیے بلکہ ان کے اردگرد کے لوگوں کے لیے بھی ایک نعمت ہوتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عمر کے ساتھ خواتین کی ہوتا ہے
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔