خیبر پختوانخوا کی 11 سینیٹ نشستوں کیلئے پولنگ 21 جولائی کو ہوگی، سینیٹر ثانیہ نشتر کی خالی کردہ نشست پر پولنگ 31 جولائی کو ہوگی، مجموعی طور پر سینیٹ کی جنرل نشستیں 7، خواتین اور ٹیکنو کریٹ کی 4 نشستیں اور علما کی نشست شامل ہیں جن پر انتخابات ہونا ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اور پنجاب میں زیر التواء سینیٹ انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا۔ خیبر پختوانخوا کی 11 سینیٹ نشستوں کیلئے پولنگ 21 جولائی کو ہوگی، سینیٹر ثانیہ نشتر کی خالی کردہ نشست پر پولنگ 31 جولائی کو ہوگی، مجموعی طور پر سینیٹ کی جنرل نشستیں 7، خواتین اور ٹیکنو کریٹ کی 4 نشستیں اور علما کی نشست شامل ہیں جن پر انتخابات ہونا ہیں۔ الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق 9 جولائی 2025ء، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی تاریخ 10 اور 11 جولائی، کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 16 جولائی اور پولنگ 31 جولائی کو ہوگی۔

مرحوم ساجد میر کی سینٹ سے خالی کردہ نشست پر الیکشن کے مختلف مراحل جوکہ الیکٹورل کالج نا مکمل ہونے کی وجہ سے ملتوی کئے گئے تھے اس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا جس میں ریٹرننگ آفیسر امیدواروں کی Revised list لسٹ 15 جولائی 2025ء کو جاری کرے گا اور کاغذات نامزدگی 16 جولائی 2025ء تک واپس لئے جاسکیں گے جب کہ پولنگ 21 جولائی 2025ء کو پنجاب اسمبلی میں ہوگی۔

قومی اسمبلی میں خیبر پختونخوا سے مسلم لیگ نون کی خواتین کی مخصوص 2 خالی نشستوں پر بھی الیکشن پروگرام 8 جولائی 2025ء کو ریٹرننگ آفیسر جاری کرے گا، کاغذات نامزدگی 9 اور 10 جولائی 2025ء کو جمع کروائے جا سکیں گے، کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 14 جولائی اور امیدواروں کی حتمی لسٹ 24 جولائی 2025ء کو جاری کی جائے گی۔

مسلم لیگ نون کی ترجیحی فہرست ختم ہوچکی ہے، لہٰذا اسے 10 جولائی تک نئی ترجیحی فہرست ریٹرننگ آفیسر کے پاس جمع کروانی ہوگی۔ الیکشن کمیشن نے 2 جولائی 2025ء کو مخصوص نشستوں پر جن ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا ان کی حلف برداری کے لئے بھی سپیکر قومی و صوبائی اسمبلیوں کو خط ارسال کر دیے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں سنبھال سکیں اور خیبر پختونخوا اور پنجاب کے سینٹ الیکشن میں ووٹ کاسٹ کر سکیں۔ واضح رہے سپیکر  قومی اسمبلی سے حلف نہ لینے کی وجہ نشستیں خالی تھیں جب کہ رواں سال 2 اپریل کو سینیٹ الیکشن ملتوی کیے گئے تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کاغذات نامزدگی جولائی کو ہوگی خیبر پختونخوا جولائی 2025ء کو

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن