لاہور سے سیالکوٹ جانے والی ریل کی بوگیاں کم پڑگئیں، مسافر چھت اور انجن پر بھی سوار
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک)شاہدرہ سے سیالکوٹ جانے والی لاثانی ایکسپریس کی بوگیاں کم پڑ گئیں اور مسافر چھت اور انجن پر سوار ہوگئے جبکہ زیادہ رش کی وجہ سے ریل کے اندر موجود کئی مسافر گرمی اور حبس کے باعث بے ہوش ہوگئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق لاثانی ایکسپریس کی بوگیاں کم اور مسافر زیادہ ہوگئےاور مسافروں نے جگہ نہ ملنے پر ٹرین کی چھت پر قبضہ کر لیا۔
ریل کے اندر موجود مسافروں میں ہاتھا پائی اور لڑائی جھگڑا ہوا اور ریلوے انتظامیہ مسافروں کے آگے بے بس نظر آئی۔
سیکڑوں مسافر جان خطرے میں ڈال کر ٹرین کی چھت پر سوار ہوئے، درجنوں مسافر ریل کے انجن پر بھی چڑھ گئے، متعدد گرمی اور حبس کی وجہ سے بے ہوش ہوگئے۔
خیال رہے کہ لاثانی ایکسپریس براستہ ناروال سیالکوٹ جاتی ہے آج روانہ ہونے والی اس ٹرین میں بوگیاں صرف تین تھیں جبکہ مسافر 10 بوگیوں کے تھے، ریلوے انتظامیہ کو بار بار شکایات درج کروا دی گئیں لیکن ریلوے انتظامیہ نے بوگیوں کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا گیا۔
مزیدپڑھیں:بھارت کا پاکستان مخالف نظریہ دونوں ممالک کے عوام کیلیے خطرناک ہے، بلاول بھٹو
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔