حکومت کا چینی 190 روپے کلو فروخت ہونے کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
حکومت نے بیشتر شہروں میں چینی کی 190 روپے کلو میں فروخت کا اعتراف جبکہ قلت پوری کرنے کیلیے 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
یہ اعتراف وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا، ادارہ شماریات کے مطابق ملک میں چینی کی زیادہ سے زیادہ قیمت 196 روپے کلو ہو چکی ہے۔
وزارت منصوبہ بندی نے ایک بیان میں کہاکہ اجلاس میں مہنگائی کے رجحانات اور پرائس میکانزم کا جائزکے دوران بتایا گیا کہ بیشتر شہروں میں چینی کی قیمت 190 کلو ہوچکی ہیں، جو 765000 چینی کی برآمد سے قبل 140 روپے کلو تھی، برآمد سے قیمتوں میں40 فیصد اضافہ ہوا۔
رواں سال چینی کی پیداوارکم ہوکر 58 لاکھ ٹن رہی جوگزشتہ سال 68 لاکھ ٹن تھی۔ وزارت خوراک نے قیمتوں میں استحکام کیلیے پانچ لاکھ ٹن درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔دوران اجلاس سربراہ ادارہ شماریات نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال شرح مہنگائی 4.
اجلاس میں وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پرائس سکور کارڈ سسٹم کے ذریعے قیمتوں کی موثر نگرانی پر زوردیتے ہوئے 114مرتبہ پرائس سکور کارڈ چیک کرنے پر چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کی تعریف کی، چیف سیکرٹری سندھ نے یہ کارڈ10بار، چیف سیکرٹری پنجاب نے6 بار، چیف سیکرٹری بلوچستان نے صفر بار، ڈی سی اسلام آباد نے27 بار، ڈی سی کراچی نے6 بار اور ڈی سی کوئٹہ نے4 بار سکور کارڈ چیک کیا۔
وزیر منصوبہ بندی نے صوبائی حکومتوں کے قیمتوں کی نگرانی کیلیے ڈیجیٹل نظام سے استفادہ نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چیف سیکرٹری روپے کلو لاکھ ٹن چینی کی
پڑھیں:
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
اسلام آباد: مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور پیٹرولیم ڈویژن نے نئی قیمتوں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں، جن کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 297 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل مٹی کا تیل 289 روپے 37 پیسے فی لیٹر میں دستیاب تھا۔
حکام کے مطابق صرف تین روز کے دوران مٹی کے تیل کی قیمت میں مجموعی طور پر 14 روپے 58 پیسے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث خصوصاً سرد علاقوں اور گھریلو صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب پیٹرولیم ڈویژن نے بھی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد 375 روپے 04 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہوگا۔
اعلامیے کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 23 جولائی 2026 سے کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد مسلسل بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں نے عوام، ٹرانسپورٹ سیکٹر، زرعی شعبے اور کاروباری سرگرمیوں پر اضافی مالی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو آئندہ بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید ردوبدل کا امکان موجود ہے۔