یوم عاشور پر زبردست انتظامات، وزیراعظم کی صوبائی حکومتوں، سیکیورٹی فورسز اور پولیس کو شاباش
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی نے ملاقات کی اور ملک بھر کی سیکیورٹی صورت حال پر بریفنگ دی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیر داخلہ نے وزیراعظم سے ملاقات میں یوم عاشور کے موقع پر ملک بھر کی صورتحال اور سیکیورٹی کے حوالے سے لئے گئے انتظامات پر وزیر اعظم کو بریفنگ دی۔
وزیراعظم نے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ مریم نواز، مراد علی شاہ، علی امین گنڈاپور، میر سرفراز بگٹی، اور وزیر اعظم آزاد جموں کشمیر چوہدری انوار الحق، وزیر اعلی گلگت بلتستان گلبر خان کو یوم عاشور کے موقع اپنے اپنے علاقوں میں مؤثر سیکیورٹی انتظامات کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم نے صوبائی انتظامیہ، پولیس سیکیورٹی فورسز اور رینجرز کی کارکردگی کی تعریف کی اور کہا کہ صوبائی حکومتوں اور سیکیورٹی فورسز کی مؤثر و پیشہ ورانہ منصوبہ بندی کی بدولت عوام کے لیے یوم عاشور کا پر امن اور پر سکون انعقاد ممکن ہوا۔
مزید پڑھیں: ملک بھر میں یوم عاشور کے جلوس پُرامن طور پر اختتام پذیر
وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نے یوم عاشور کے موقع پر سیکیورٹی کے انتظامات اورعوام کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام تر اقدامات اٹھائے۔
وزیراعظم نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کو عاشورہ کے انتظامات احسن طریقے سے کرنے پر سراہا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: یوم عاشور کے وزیر داخلہ
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔