ملک بھر میں یوم عاشور پر نکالے گئے جلوس اختتام پذیر
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: نواسۂ رسولؐ، حضرت امام حسینؓ اور اُن کے باوفا ساتھیوں کی عظیم قربانی کی یاد میں آج ملک بھر میں یوم عاشور عقیدت و احترام سے منایا گیا۔ اس موقع پر چھوٹے بڑے شہروں، قصبوں اور دیہی علاقوں میں تعزیے، علم اور ذوالجناح کے جلوس برآمد ہوئے، عزاداروں نے گریہ و زاری کرتے ہوئے شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کیا۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق لاہور میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس نثار حویلی اندرون موچی گیٹ سے برآمد ہوا جو کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوا، کراچی میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس صبح 10 بجے نشتر پارک سے برآمد ہوا جو مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا امام بارگاہ حسینیاں ایرانیاں کھارادر پر ختم ہوا۔
صوبائی دارالحکومت لاہور میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس نثار حویلی، اندرون موچی گیٹ سے صبح برآمد ہوا جو اپنے مقررہ راستوں سے گزرتے ہوئے کربلا گامے شاہ پر اختتام پذیر ہوا۔ جلوس میں ہزاروں عزاداروں نے شرکت کی، اور سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
کراچی میں مرکزی جلوس صبح 10 بجے نشتر پارک سے برآمد ہوا۔ جلوس ایم اے جناح روڈ، صدر، ریگل چوک، بولٹن مارکیٹ اور کھارادر سے ہوتا ہوا امام بارگاہ حسینیاں ایرانیاں پر پرامن طور پر اختتام پذیر ہوا۔ جلوس کے دوران موبائل فون سروس معطل رہی جبکہ شہر بھر میں ٹریفک کا متبادل نظام رائج رہا۔
ملک بھر میں یوم عاشور کے موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ جلوسوں کے راستوں پر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات رہی، جبکہ سی سی ٹی وی کیمروں اور ڈرون کی مدد سے نگرانی کی گئی۔ بعض علاقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل رہی۔
یوم عاشور پر عوام کی بڑی تعداد نے روزہ رکھا، نذر و نیاز تقسیم کی گئی، مجالس برپا ہوئیں اور امام حسینؓ کے پیغام کو یاد کرتے ہوئے عہد کیا گیا کہ ظلم کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں یوم عاشور اختتام پذیر مرکزی جلوس برآمد ہوا
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘حکومتی دعوﺅں کے برعکس حالیہ بارشوں میں پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے‘کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے‘ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا جبکہ 38 مکانات متاثر ہوئے.(جاری ہے)
پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے. ادھرمحکمہ موسمیات نے ملک بھر میں موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر تے ہوئے نشیبی علاقے زیر آب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ظاہر کیئے ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پورے ملک میں تیز ہواﺅں اور گرج چمک کے ساتھ بیشتر مقامات پر وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے. صوبائی دارلحکومت لاہور میں آج ہونے والی بارش سے واپڈا ٹاﺅن‘ جوہر ٹاﺅن‘ گلبرگ اور ڈیفنس ‘ او پی ایف سوسائٹی‘ ایل ڈی اے ایونیو‘ فیصل ٹاﺅن‘ماڈل ٹاﺅن‘علامہ اقبال ٹاﺅن‘مسلم ٹاﺅن‘گارڈن ٹاﺅن‘سبزہ زار‘ملتان روڈسمیت شہر بھر میں تیزبارش سے شہر کی مرکزی شاہرائیں ندیوں کا منظرپیش کرتی رہیں جبکہ شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی گھر میں داخل ہوگیا. شمالی لاہوراور اندرون شہر میں بھی بارش کی پانی کی وجہ سے معمولات زندگی شدید متاثرہوئے . محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں کے دوران بھی مزید بارش کا امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق شام کے وقت درجہ حرات 28ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ شہر میں 11 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں تاہم ہوا میں نمی کا تناسب 95 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث موسم مرطوب مگر خوشگوار محسوس کیا جا رہا ہے.