Jasarat News:
2026-06-03@08:19:40 GMT

ملک بھر میں یوم عاشور پر نکالے گئے جلوس اختتام پذیر

اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: نواسۂ رسولؐ، حضرت امام حسینؓ اور اُن کے باوفا ساتھیوں کی عظیم قربانی کی یاد میں آج ملک بھر میں یوم عاشور عقیدت و احترام سے منایا گیا۔ اس موقع پر چھوٹے بڑے شہروں، قصبوں اور دیہی علاقوں میں تعزیے، علم اور ذوالجناح کے جلوس برآمد ہوئے، عزاداروں نے گریہ و زاری کرتے ہوئے شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کیا۔

میڈیا رپورٹس کےمطابق لاہور میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس نثار حویلی اندرون موچی گیٹ سے برآمد ہوا جو کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوا، کراچی میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس صبح 10 بجے نشتر پارک سے برآمد ہوا جو مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا امام بارگاہ حسینیاں ایرانیاں کھارادر پر ختم ہوا۔

صوبائی دارالحکومت لاہور میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس نثار حویلی، اندرون موچی گیٹ سے صبح برآمد ہوا جو اپنے مقررہ راستوں سے گزرتے ہوئے کربلا گامے شاہ پر اختتام پذیر ہوا۔ جلوس میں ہزاروں عزاداروں نے شرکت کی، اور سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

کراچی میں مرکزی جلوس صبح 10 بجے نشتر پارک سے برآمد ہوا۔ جلوس ایم اے جناح روڈ، صدر، ریگل چوک، بولٹن مارکیٹ اور کھارادر سے ہوتا ہوا امام بارگاہ حسینیاں ایرانیاں پر پرامن طور پر اختتام پذیر ہوا۔ جلوس کے دوران موبائل فون سروس معطل رہی جبکہ شہر بھر میں ٹریفک کا متبادل نظام رائج رہا۔

ملک بھر میں یوم عاشور کے موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ جلوسوں کے راستوں پر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات رہی، جبکہ سی سی ٹی وی کیمروں اور ڈرون کی مدد سے نگرانی کی گئی۔ بعض علاقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل رہی۔

یوم عاشور پر عوام کی بڑی تعداد نے روزہ رکھا، نذر و نیاز تقسیم کی گئی، مجالس برپا ہوئیں اور امام حسینؓ کے پیغام کو یاد کرتے ہوئے عہد کیا گیا کہ ظلم کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میں یوم عاشور اختتام پذیر مرکزی جلوس برآمد ہوا

پڑھیں:

لاپتا امریکی سائنسدان خاتون کی باقیات جنگل سے برآمد، پراسرار گمشدگیاں معمہ بن گئیں

امریکی ریاست نیو میکسیکو کے شمالی علاقے میں واقع ایک قومی جنگل سے گزشتہ ہفتے ملنے والی انسانی باقیات کی شناخت میلیسا کاسیاس کے طور پر کر لی گئی ہے، جو تقریباً ایک سال قبل لاپتا ہو گئی تھیں۔

حکام کے مطابق وہ لاس الاموس نیشنل لیبارٹری سے وابستہ سائنسدان تھیں۔

میلیسا کاسیاس ان کم از کم 10 افراد میں شامل ہیں جو حالیہ برسوں میں امریکا کے حساس جوہری اور خلائی تحقیقاتی منصوبوں سے وابستہ رہے اور یا تو ہلاک ہوئے یا پراسرار طور پر لاپتا ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی جوہری اور خلائی پروگرام سے وابستہ 10 سائنسدانوں کی پراسرار ہلاکت، ٹرمپ کا تحقیقات کا حکم

ان واقعات نے مختلف سوالات کو جنم دیا ہے اور سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں کو بھی ہوا دی ہے۔

نیو میکسیکو اسٹیٹ پولیس کے مطابق 28 مئی کو ایک سیاح نے کارسن نیشنل فاریسٹ کے میک گیفی رج علاقے میں انسانی باقیات دریافت کیں۔

یہ مقام کاسیاس کے شہر تاؤس میں واقع گھر سے تقریباً 15 میل کے فاصلے پر ہے۔ باقیات کے ساتھ ایک ہینڈگن بھی ملی۔

The 53-year-old woman was one of 10 dead or missing scientists and staffers linked to sensitive federal nuclear and aerospace research. https://t.co/mZ36EeDyYF pic.twitter.com/bgAIBGm5PT

— KTLA (@KTLA) June 3, 2026

ریاستی دفتر برائے میڈیکل انویسٹی گیٹر نے باقیات کی مثبت شناخت کر لی ہے، تاہم تاحال موت کی وجہ اور نوعیت کا تعین نہیں کیا جا سکا۔

حکام کے مطابق دریافت شدہ باقیات کے مزید بشریاتی معائنے کیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: سائنسدانوں کی بڑی تعداد امریکا کیوں چھوڑنا چاہتی ہے؟

54 سالہ میلیسا کاسیاس کو آخری بار جون 2025 میں نیو میکسیکو کے علاقے ٹالپا کے قریب ایک شاہراہ پر پیدل چلتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق وہ اپنا پرس، شناختی دستاویزات اور موبائل فون گھر پر چھوڑ گئی تھیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کے ایک فون کو فیکٹری ری سیٹ بھی کیا گیا تھا۔

کاسیاس 26 جون 2025 کو اس وقت لاپتا قرار دی گئیں جب وہ کام پر نہ پہنچیں اور اپنی بیٹی کے دفتر جانے کے بعد گھر واپس بھی نہ آئیں۔

اس وقت حکام نے کہا تھا کہ کسی مجرمانہ کارروائی کے شواہد نہیں ملے تھے۔

مزید پڑھیں: امریکا کے خفیہ بائیو لیب پروگرام پر ایک دہائی سے جاری تنازع دوبارہ شدت اختیار کر گیا

واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں امریکا کے حساس جوہری اور خلائی تحقیقاتی منصوبوں سے وابستہ میلیسا کاسیاس سمیت کم از کم 10 افراد ہلاک یا پراسرار طور پر لاپتا ہو چکے ہیں۔

اسی طرح لاس الاموس نیشنل لیبارٹری کے ایک اور ریٹائرڈ ملازم انتھونی شاویز بھی مئی 2025 میں لاپتا ہو گئے تھے، تاہم پولیس کے مطابق اس معاملے میں بھی کسی مجرمانہ کارروائی کے آثار نہیں ملے۔

دیگر واقعات میں ایک ریٹائرڈ امریکی فضائیہ کے میجر جنرل کی گمشدگی اور کیلیفورنیا میں ایک ماہر فلکیات کے قتل کا واقعہ بھی شامل ہے۔

ان معاملات کے تناظر میں امریکی کانگریس کی ہاؤس اوور سائٹ کمیٹی نے اپریل میں حساس سائنسی معلومات تک رسائی رکھنے والے افراد کی اموات اور گمشدگیوں کی تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔

مزید پڑھیں:

امریکی ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ وہ محکمہ توانائی اور دیگر وفاقی، ریاستی اور مقامی اداروں کے ساتھ مل کر یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا ان واقعات کے درمیان کوئی ممکنہ تعلق موجود ہے یا نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی سائنسدان امریکی فضائیہ ایف بی آئی پُراسرار شناختی دستاویزات قومی جنگل کانگریس لاس الاموس محکمہ توانائی نیشنل فاریسٹ نیشنل لیبارٹری نیو میکسیکو

متعلقہ مضامین

  • لاپتا امریکی سائنسدان خاتون کی باقیات جنگل سے برآمد، پراسرار گمشدگیاں معمہ بن گئیں
  • کالج میں دیمک زدہ نقدی اور ’خفیہ کمرہ‘ برآمد، سیاسی پارٹیوں میں کشیدگی
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟