پاکستان سٹاک مارکیٹ میں نیا ریکارڈ، انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو گیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
کاروباری ہفتے کے پہلے روز کاروبار کے آغاز پر ہی سٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی، جس کے باعث ہنڈرڈ انڈیکس ایک لاکھ 33 ہزار پوائنٹس کی حد عبور کر گیا۔ ٹریڈنگ کے دوران 1000 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ ہنڈرڈ انڈیکس ایک لاکھ 33 ہزار 109 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں ریکارڈز قائم ہونے کا سلسلہ برقرار ہے۔ کاروباری ہفتے کے پہلے روز کاروبار کے آغاز پر ہی سٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی، جس کے باعث ہنڈرڈ انڈیکس ایک لاکھ 33 ہزار پوائنٹس کی حد عبور کر گیا۔ ٹریڈنگ کے دوران 1000 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ ہنڈرڈ انڈیکس ایک لاکھ 33 ہزار 109 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ کاروباری ہفتے کے آخری روز کاروبار کے اختتام پر سٹاک ایکسچینج میں ہنڈرڈ انڈیکس 1262 پوائنٹس اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 31 ہزار 949 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہنڈرڈ انڈیکس ایک لاکھ 33 ہزار پوائنٹس کی
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔