لاہور: ایک شخص کا اہل خانہ پر تشدد، ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن ڈھال بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
لاہور میں ایک شخص کی جانب سے اہل خانہ پر تشدد کے دوران ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن ڈھال بن گیا۔
رپورٹ کے مطابق لاہور کے علاقے تاجپورہ سے ایک نوعمر بچی نے ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر کال کرکے اطلاع دی اور کہا کہ والد نے شیشے کا گلاس میرے سر پر مارا جس سے میں شدید زخمی ہو گئی، بچی نے بتایا کہ اس کے والد نے اس کی والدہ اور بھائی پر بھی جسمانی تشدد کیا ہے۔
کال موصول ہوتے ہی ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن نے فوری طور پر پولیس کو موقع پر روانہ کیا اور تھانہ غازی آباد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے موقع پر پہنچ کر ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس نے کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق ملزم نے اپنے بچوں پر متعدد بار جسمانی تشدد کیا تھا۔
ترجمان سیف سٹی نے کہا کہ پولیس نے مقدمہ درج کر کے مزید قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا، گھریلو تشدد کا شکار افراد فوری طور پر 15 ڈائل کر کے "2" دبائیں اور ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن سے مدد حاصل کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔