کراچی، ڈبل کیبن کی موٹرسائیکل سواروں کو ٹکر کی فوٹیج سامنے آگئی، ظفر عباس کا ڈرائیور گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
کراچی: شہر قائد کے علاقے انچولی کے قریب ڈبل کیبن کی ٹکر سے نوجوانوں کے زخمی ہونے کے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آگئی جبکہ پولیس نے ڈرائیور کو بھی حراست میں لے لیا
ایکسپریس نیوز کو موصول سی سی ٹی وی فوٹیج میں ڈبل کیبن سڑک پر غلط سمت (رانگ وے) آرہی ہے اور اسی دوران ڈرائیور تیز رفتاری میں دوسری سڑک پر جانے کی کوشش کی تو موٹرسائیکل سوار گاڑی سے ٹکرائے اور اچھل کر دور فٹ پاتھ پر گرے۔
ویگو کے پیچھے بھی دو سیکیورٹی اہلکار بھی بیٹھے ہوئے تھے جبکہ حادثے کو دیکھ کر ڈرائیور نے گاڑی بھگا دی تاہم واقعے کے بعد سڑک پر دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی۔
ڈبل کیبن گاڑی کے رانگ سائیڈ جانے کی وجہ سے حادثہ پیش آیا جبکہ حادثے کے بعد ڈرائیور مسلح گارڈز سمیت موقع سے فرار ہوگیا۔
دوسری جانب ضلع وسطی کی پولیس نے جے ڈی سی کے روح رواں ظفر عباس کے ڈرائیور کو حراست میں لے لیا جس کا بیان قلمبند کیا جارہا ہے۔
گزشتہ شب حادثے کے بعد ظفر عباس نے دعویٰ کیا تھا کہ موٹرسائیکل سوار اسپیڈ میں اور بغیر لائٹ کے آرہا تھا جس کی وجہ سے حادثہ پیش آیا، سی سی ٹی وی فوٹیج کے بعد اُن کا یہ بیان بھی غلط ثابت ہوگیا۔
واقعے کے کچھ دیر بعد ظفر عباس نے جائے وقوعہ پہنچ کر زخمیوں عبدالاحد اور نعیم کو فیڈرل بی ایریا کے نجی اسپتال منتقل کروایا اور پھر انہیں نیشنل اسٹیڈیم کے قریب واقع نجی اسپتال منتقل کروادیا جہاں دونوں کا علاج جاری ہے اور ایک زخمی نوجوان موت و زندگی کی کشمکش میں وینٹی لیٹر پر ہے۔
ظفر عباس نے اعلان کیا ہے کہ وہ زخمیوں کے علاج و معالجے میں آنے والے تمام اخراجات خود ادا کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔