City 42:
2026-07-24@13:05:03 GMT

پاکستان پوسٹ کے 4 ارب روپے کے غیر مجاز فنڈز کا انکشاف

اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT

ویب ڈیسک: پاکستان پوسٹ کے 4 ارب روپے کے غیر مجاز فنڈز کا انکشاف ہوا ہے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کا اجلاس چیئرمین جنید اکبر کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں پاکستان پوسٹ کے 4 ارب روپے کے غیر مجاز فنڈز کا انکشاف ہوا۔ اجلاس کے دوران کمیٹی اراکین نے پاکستان پوسٹ کے ڈائریکٹر جنرل پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔

دورانِ اجلاس ڈی جی پاکستان پوسٹ نے وضاحت دی کہ یہ غلطیاں ادارے میں شروع کے چند مہینوں میں ہوئیں، اب ایسا کچھ نہیں ہو رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا سسٹم نیا تھا اور اسٹاف کو بہت سے معاملات کا اندازہ نہیں تھا، تاہم آڈٹ حکام نے ان کے مؤقف سے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ ہم اس سے متفق نہیں کیونکہ اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔

سکولوں کی انسپکشن کرنے والے افسران کی آن لائن مانیٹرنگ کا فیصلہ

کمیٹی کی رکن شازیہ مری نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیسے آپ اتنی بڑی رقم ادھر سے اُدھر ہو جانے کا دفاع کر سکتے ہیں؟

پاکستان پوسٹ کے حکام نے وضاحت دی کہ اب ایسا نہیں ہے، ساری رقم اکاؤنٹ ون میں جاتی ہے، تاہم آڈٹ حکام نے مؤقف اپنایا کہ یہ صرف غلط بلنگ کا مسئلہ نہیں بلکہ رقم غلط جگہ پر بھی استعمال ہوئی ہے۔

چیئرمین جنید اکبر نے تمام ممبران کی رائے بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ دوبارہ جائزے سے حل نہیں ہوگا کیونکہ پیسہ کہیں اور استعمال ہوا ہے۔ اس موقع پر سیکرٹری مواصلات نے کمیٹی سے درخواست کی کہ ہمیں 3 ماہ دے دیں، اگر کسی قسم کا کوئی غلط استعمال ثابت ہوا تو ہم آپ کے سامنے لے آئیں گے،  جس پر جنید اکبر نے جواب دیا، ٹھیک ہے، آپ 3 ماہ بعد ہمیں رپورٹ دے دیں۔

ریلوے ہیڈکوارٹر: افسران کے تقرر و تبادلے

Ansa Awais Content Writer.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: پاکستان پوسٹ کے

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • 100 روپے کا موبائل لوڈ کروانے پر اصل بیلنس کتنا ملتا ہے؟ ٹیکس کی مکمل تفصیل سامنے آگئی
  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف