رجب بٹ ایک بار پھر قانون کی گرفت میں
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
مشہور ٹک ٹاکر رجب بٹ کی گاڑی سے سیاہ شیشے اتار دیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق لاہور میں سیاہ شیشوں والی گاڑیوں کے خلاف مہم تیز کر دی گئی ہے۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر معروف ٹک ٹاکر رجب بٹ کی گاڑی سے بھی سیاہ پیپرز اتار دیے گئے۔
ترجمان ڈولفن فورس کے مطابق یہ کارروائی لاہور کے علاقے ٹھوکر نیاز بیگ پر ڈی ایس پی مبشر اعوان کی سربراہی میں کی گئی۔ انہوں نے ناکے پر نگرانی کے دوران سیاہ شیشوں والی گاڑیوں کے خلاف قانونی کارروائیاں کیں، جن میں ٹک ٹاکر رجب بٹ کی گاڑی بھی شامل تھی۔
ڈولفن فورس کے ایس پی ارسلان زاہد کا کہنا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والی شہر بھر کی ہزاروں گاڑیوں کے خلاف کارروائیاں کی جا چکی ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ شہریوں کو قانون کی پابندی کرنی چاہیے۔ آئندہ بھی ایسے اقدامات جاری رہیں گے اور قانون کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: قانون کی
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔