چینی ایئر فورس کے سربراہ کا ایئر ہیڈ کوارٹرز کا دورہ ، پاک فضائیہ کی جنگی تیاریوں کی تعریف
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق پیپلز لبریشن آرمی ایئر فورس کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل وانگ گینگ کی قیادت میں چینی دفاعی وفد نے ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق چینی دفاعی وفد کی پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات ہوئی، باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی کی صورتحال اور دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاک فضائیہ کے سربراہ نے کہا کہ پاک چین تعلقات تذویراتی ہم آہنگی اور علاقائی امن واستحکام کیلئے مشترکہ خواہشات پر مبنی ہیں، لیفٹیننٹ جنرل وانگ گینگ کو پی اے ایف کےاسٹرکچر،اسٹریٹجک اقدامات اور آپریشنل امور پر بریفنگ دی گئی جبکہ پاک فضائیہ کے سربراہ نے دونوں فضائی افواج کے درمیان دوستی کے مضبوط رشتے ، تربیت، ٹیکنالوجی اور آپریشنل شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ۔ جنرل وانگ گینگ نے آپریشنل تیاریوں اور پاک فضائیہ کی جدید ترین صلاحیتوں کو سراہا، سربراہ چینی فضائیہ پی اے ایف کے ملٹی ڈومین آپریشنز سے خاص طور پر متاثر ہوئے، اور پی اے ایف کے جنگی تجربے سے سیکھنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ۔ معزز مہمان نے حالیہ تنازع کے دوران پاک فضائیہ کی مثالی کارکردگی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا، معزز مہمان نے ائیرچیف کی پر عزم قیادت میں پی اے ایف کے پائلٹس کی شاندار کارکردگی کی تعریف کی۔
عمران خان کے بیٹے قاسم اور سلمان پی ٹی آئی کی احتجاجی تحریک کا حصہ بنیں گے: علیمہ خان
مزید :.ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پی اے ایف کے پاک فضائیہ کے سربراہ
پڑھیں:
ٹرمپ نے وینیزویلا کی فضائی حدود مکمل بند کرنیکا اعلان کر دیا، جنگی کارروائی کا امکان
امریکا کا دعویٰ ہے کہ مادورو منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہیں، جبکہ مادورو اس الزام کی سختی سے تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ٹرمپ انہیں اقتدار سے ہٹانا چاہتے ہیں، جس کی وینیزویلا کی عوام اور فوج مزاحمت کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ واشنگٹن نے وینیزویلا کے گرد فضائی حدود سے متعلق نیا سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینیزویلا اور اس کے اطراف کی فضائی حدود کو "مکمل طور پر بند" تصور کیا جائے، تاہم انہوں نے اس فیصلے کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ رائٹرز کے مطابق امریکا، صدر نکولس مادورو کی حکومت پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں ایئرلائنز، پائلٹس اور مبینہ منشیات اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث افراد کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس علاقے کو "نو فلائی زون" سمجھیں۔ وینیزویلا کی وزارتِ اطلاعات اور امریکی محکمہ دفاع نے اس بیان پر فوری ردعمل نہیں دیا۔ کیریبین میں مبینہ منشیات بردار کشتیوں کے خلاف امریکی کارروائیاں کئی ماہ سے جاری ہیں، جبکہ خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں بھی تیزی آرہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ وینیزویلا میں سی آئی اے کی خفیہ کارروائیوں کی منظوری بھی دے چکے ہیں اور جلد زمینی کارروائیوں کا عندیہ دے رہے ہیں۔
گذشتہ ہفتے امریکی ہوا بازی کے ادارے نے ایئرلائنز کو وینیزویلا کے اوپر پروازوں سے متعلق "خطرناک صورتحال" سے خبردار کیا تھا، کیونکہ وہاں سیکیورٹی حالات بگڑ رہے ہیں اور فوجی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے بعد چھ بڑی بین الاقوامی ایئرلائنز نے پروازیں معطل کیں، جس پر وینیزویلا نے ان کے آپریشنل حقوق منسوخ کر دیئے۔ امریکا کا دعویٰ ہے کہ مادورو منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہیں، جبکہ مادورو اس الزام کی سختی سے تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ٹرمپ انہیں اقتدار سے ہٹانا چاہتے ہیں، جس کی وینیزویلا کی عوام اور فوج مزاحمت کریں گے۔ ستمبر سے اب تک امریکی فورسز کیریبین اور بحرالکاہل میں کم از کم 21 کارروائیاں کرچکی ہیں، جن میں 83 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔