ججوں کے خلاف زیرالتوا شکایات، سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس طلب
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
اسلام آباد: سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس 12 جولائی کو طلب کرلیا گیا ہے جہاں ججوں کے خلاف زیرالتوا شکایات اور نئے رولز سمیت دیگر معاملات کا جائزہ لیا جائے گا۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس 12 جولائی (ہفتہ) کو سپریم کورٹ اسلام آباد میں ہوگا۔
سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں متعدد ججوں کے خلاف زیر التوا شکایات کا جائزہ لیا جائے گا۔
اجلاس میں سپریم جوڈیشل کونسل کے نئے رولز کی تشکیل کا معاملہ بھی زیر غور آئے گا۔
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سپریم جوڈیشل کونسل
پڑھیں:
60سال پرانے ٹریفک ایکٹ میں بڑی اصلاحات : ون وے خلاف ورزی 30روز میں ختم کی جائے ‘ ٹریفک پولیس کو آخری چانس نہتری نہ ہوئی تو نیا دیپارٹمنٹ بنے گا : مریم نواز
لاہور (نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرِ صدارت بڑھتے ٹریفک مسائل پر اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ٹریفک کے جدید نظام کی منصوبہ بندی، روڈ سیفٹی اور نظم و نسق پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں ہیلمٹ، چھتوں پر سواریاں بٹھانے اور دیگرخلاف ورزیوں پر چالان کی رپورٹ پیش کی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب میں 60 سالہ پرانے ٹریفک ایکٹ میں 20 بڑی اصلاحات/ ترامیم لائی گئی ہیں۔ اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ پنجاب میں کسی بھی گاڑی کا بار بار چالان ہوگا تو گاڑی نیلام ہوگی۔ کوئی قانون سے بالاتر نہیں، قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی سرکاری گاڑیوں کو بھاری جرمانہ ہوگا۔ اس موقع پر پنجاب میں ون وے کی خلاف ورزی ختم کرنے کے لیے 30 دن کی مہلت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ یوٹرن کی ری ماڈلنگ سے سڑکیں محفوظ بنائی جائیں گی۔ اجلاس میں حادثات میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ کو دیت فوری طور پر فراہم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ مناسب پارکنگ نہیں ہوگی تو میرج ہال بھی نہیں ہوگا۔ میرج ہال کو پارکنگ کا انتظام کرنا ہوگا۔ اجلاس میں پنجاب میں کم عمر بچوں کی ڈرائیونگ ختم کرنے کے لیے کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا۔ انڈر ایج ڈرائیونگ کی صورت میں گاڑی مالک کو 6ماہ تک قید بھی ہوسکتی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے پنجاب بھر میں چھت پر سواریاں بٹھانے والی بسوں پر کریک ڈاؤن کرنے کا حکم دیا ہے۔ ٹریفک کی بہتری اور شہریوں کی حفاظت کے لیے لاہور کی پانچ ماڈل سڑکوں پر چنگ چی رکشوں پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مریم نواز نے لاہور میں ٹریفک کی صورتحال میں بہتری کے لیے 30 دن کی فیصلہ کن ڈیڈ لائن مقرر کر دی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ دوسرے شہر جانے والی گاڑی کو تیز رفتاری سے جلد پہنچنے پر کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لاہور سمیت تمام شہروں میں ٹریفک کے معاملات کو بہتر کرنا پڑے گا۔ کوئی امتیاز نہ رکھاجائے، خلاف ورزی پر ہر شخص کو جرمانہ دینا پڑے گا۔ ٹریفک پولیس کو آخری چانس دے رہی ہوں، اگلا موقع نہیں ملے گا، نہ کرسکے تو نیا ڈیپارٹمنٹ بنانا پڑے گا۔ ہر چیز ٹھیک کردی مگر ٹریفک کا برا حال ہے۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور مسلسل بے ہنگم ٹریفک ریاستی رٹ کمزور ہونے کے مترادف ہے۔