سانحہ لیاری: گورنر سندھ کی جانب سے متاثرین کے لیے پلاٹ، راشن اور رہائش کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے سانحہ لیاری کے متاثرہ خاندانوں کے لیے فوری امدادی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کو 80،80 گز کے پلاٹ جبکہ بے گھر خاندانوں کو راشن اور رہائش فراہم کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:نبیل گبول کا سانحہ بغدادی کے ذمہ داروں سے مستعفی ہونے کا مطالبہ
میڈیا سے گفتگو میں گورنر سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت متاثرہ خاندانوں کو 6 ماہ کا کرایہ ادا کرے اور انہیں اسی علاقے میں گھر لے کر دے۔ اُن کا کہنا تھا کہ متاثرین کو راشن بھی دیا جائے گا تاکہ وہ اس کٹھن وقت میں اکیلے محسوس نہ کریں۔ ساتھ ہی متاثرین کو ہدایت کی گئی کہ وہ خود کو گورنر ہاؤس میں رجسٹر کرائیں تاکہ انہیں بروقت مدد پہنچائی جا سکے۔
گورنر ٹیسوری نے اس موقع پر لیاری کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے اور اس حوالے سے ایوان میں آواز بلند کی جائے گی۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے سانحے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنانے کے اقدام کو خوش آئند قرار دیا تاہم ساتھ ہی واضح کیا کہ فیصلوں کو بغور دیکھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:لیاری بغدادی میں 60 گھنٹے طویل ریسکیو آپریشن مکمل، مخدوش عمارتوں کیخلاف آپریشن کا اعلان
انہوں نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ادارے میں چہرے بدلنے سے نظام میں بہتری نہیں آتی، سسٹم کو مکمل طور پر تبدیل کرنا ہوگا۔ اُن کے مطابق ڈی جی ایس بی سی اے کو معطل کیا جا چکا ہے، لیکن اگر پورا نظام وہی رہے تو معطلی بے سود ہے۔
گورنر سندھ نے سرکاری رہائشی اسکیموں میں تاخیر پر بھی سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 20 سال میں سندھ حکومت نے کسی رہائشی منصوبے میں ترقیاتی کام مکمل نہیں کیا، جس کے باعث شہری مجبوراً غیرقانونی یا کمزور تعمیرات میں رہائش اختیار کرتے ہیں۔ خاص طور پر اسکیم 42 تیسر ٹاؤن میں دو دہائیوں سے کوئی ترقیاتی سرگرمی نہیں ہوئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اعلان پلاٹس راشن سانحہ لیاری کامران ٹیسوری گورنر سندھ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اعلان پلاٹس سانحہ لیاری کامران ٹیسوری گورنر سندھ گورنر سندھ کے لیے
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔