ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ اسلام آباد نے مالی سال20224-25 میں 21 ارب 34 کروڑ روپے کی ٹیکس وصولی کے ساتھ تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دئیے۔جاری بیان کے مطابق ڈائریکٹر ایکسائز اسلام آباد بلال اعظم نے بتایا ہے کہ ڈپارٹمنٹ نے ٹیکس کلیکشن کا نیا ریکارڈ بنا دیا، محکمے نے مالی سال 2024-25 میں 21 ارب 34 کروڑ روپے سرکاری خزانے میں جمع کروائے۔بلال اعظم نے بتایا کہ ایکسائز اسلام آباد نے ٹیکس وصولی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑئیے، گزشتہ سال کل ٹیکس وصولی 17 ارب 23 کروڑ روپے تھی، گزشتہ سال کی نسبت 4 ارب 11 کروڑ روپے زائد ریونیو جمع کیا۔ڈائریکٹر نے مزید بتایا کہ ٹیکس وصولی میں اضافہ چیف کمشنر چوہدری محمد علی رندھاوا کی پالیسیوں اور ڈی سی عرفان میمن کی سرپرستی کے سبب ممکن ہوا، گزشتہ پانچ سالوں میں ٹیکس کلیکشن میں کئی سو گنا اضافہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ محکمے نے گاڑیوں کی گھر گھر جا کر رجسٹریشن، ٹوکن ٹیکس کی آن لائن ادائیگی اور دیگر جدید سہولیات کے سبب ریکارڈ کلیکشن کی، دارالحکومت کی شاہراں، پارکوں اور مارکیٹوں تک ایکسائز کی جدید سروسز کی فراہمی کے سبب ریکارڈ ریونیو جمع ہوا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: اسلام آباد ٹیکس وصولی کروڑ روپے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف