ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ اسلام آباد نے ٹیکس وصولی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دئیے۔
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ اسلام آباد نے مالی سال20224-25 میں 21 ارب 34 کروڑ روپے کی ٹیکس وصولی کے ساتھ تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دئیے۔جاری بیان کے مطابق ڈائریکٹر ایکسائز اسلام آباد بلال اعظم نے بتایا ہے کہ ڈپارٹمنٹ نے ٹیکس کلیکشن کا نیا ریکارڈ بنا دیا، محکمے نے مالی سال 2024-25 میں 21 ارب 34 کروڑ روپے سرکاری خزانے میں جمع کروائے۔بلال اعظم نے بتایا کہ ایکسائز اسلام آباد نے ٹیکس وصولی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑئیے، گزشتہ سال کل ٹیکس وصولی 17 ارب 23 کروڑ روپے تھی، گزشتہ سال کی نسبت 4 ارب 11 کروڑ روپے زائد ریونیو جمع کیا۔ڈائریکٹر نے مزید بتایا کہ ٹیکس وصولی میں اضافہ چیف کمشنر چوہدری محمد علی رندھاوا کی پالیسیوں اور ڈی سی عرفان میمن کی سرپرستی کے سبب ممکن ہوا، گزشتہ پانچ سالوں میں ٹیکس کلیکشن میں کئی سو گنا اضافہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ محکمے نے گاڑیوں کی گھر گھر جا کر رجسٹریشن، ٹوکن ٹیکس کی آن لائن ادائیگی اور دیگر جدید سہولیات کے سبب ریکارڈ کلیکشن کی، دارالحکومت کی شاہراں، پارکوں اور مارکیٹوں تک ایکسائز کی جدید سروسز کی فراہمی کے سبب ریکارڈ ریونیو جمع ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اسلام آباد ٹیکس وصولی کروڑ روپے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔