ٹرمپ کو نوبل انعام کیلیے نامزد کرنا جنگی مجرم کو اعزاز دینا ہے، سابق یورپی سفارتکار
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برسلز :یورپی یونین کے سابق اعلیٰ خارجہ پالیسی سربراہ جوزف بوریل نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہوپر تنقید کرتے ہوئے کہا ہےکہ ایک جنگی مجرم کو سب سے بڑے ہتھیار سپلائر کے اعزاز میں انعام دیاجائے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق یورپی یونین کے سابق اعلیٰ خارجہ پالیسی سربراہ نے کہا کہ ایک جنگی مجرم جو بین الاقوامی عدالت انصاف کو مطلوب ہے، اپنے سب سے بڑے ہتھیار فراہم کرنے والے کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرتا ہے، جس کے ساتھ وہ جنگ عظیم دوم کے بعد مشرق وسطیٰ کی سب سے بڑی نسلی تطہیر (Ethnic Cleansing) کر رہا ہے۔
خیال رہےکہ اسرائیلی وزیر اعظم امریکا کے دورے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے باقاعدہ طور پر نامزدگی کا خط پیش کیا تھا، یہ گذشتہ چھ ماہ کے دوران نیتن یاہو کا امریکہ کا تیسرا دورہ تھا۔
واضح رہے کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں57 ہزار600 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، مسلسل بمباری کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، غذائی قلت، وبائی امراض اور انسانی بحران نے سنگین صورت اختیار کر لی ہے۔
گزشتہ نومبر میں انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (ICC) نے نیتن یاہو اور ان کے سابق وزیر دفاع یواو گیلنٹ کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے تحت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی عدالت انصاف (ICJ) میں اسرائیل کے خلاف نسل کشی (Genocide) کا مقدمہ بھی زیر سماعت ہے۔
جوزف بوریل نے گزشتہ برس یورپی یونین کے اعلیٰ سفارتی عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی اسرائیل کے جارحانہ اقدامات پر تنقید جاری رکھی ہے۔ وہ اس سے قبل بھی یورپی یونین اسرائیل ایسوسی ایشن معاہدے پر نظرثانی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یورپی یونین
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔