Jasarat News:
2026-07-24@08:46:33 GMT

بدین: ریجنل ڈائریکٹر محتسب بدین کا ڈسٹرکٹ جیل کا دورہ

اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بدین (نمائندہ جسارت ) ریجنل ڈائریکٹر صوبائی محتسب بدین عبدالوہاب میمن نے ڈسٹرکٹ جیل بدین کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے قیدیوں کو فراہم کی جانے والی خوراک، صاف پانی، طبی سہولیات اور دیگر بنیادی ضروریات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے قیدیوں سے ان کے مقدمات کے حوالے سے عدالتوں میں زیرِ سماعت تفصیلات بھی معلوم کیں اس موقع پر ریجنل ڈائریکٹر نے جیل سپرنٹنڈنٹ مظہر علی بیہن کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ قیدیوں کے ساتھ جیل کے قواعد و ضوابط کے مطابق حسن سلوک روا رکھا جائے اور انسانی حقوق کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے مزید زور دیا کہ جیلوں کو قیدیوں کے لیے اصلاحی مراکز بنایا جائے اور ان کی زندگی بہتر بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں تاکہ وہ رہائی کے بعد معاشرے کے مفید شہری بن سکیں ریجنل ڈائریکٹر نے جیل کے لیے ایمبولینس کی عدم دستیابی، قیدیوں کی تعلیم کے لیے اساتذہ کی کمی، پینے کے صاف پانی کی قلت اور ملاقات کی ناقص سہولت کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ محکموں کو سہولیات کی فراہمی کے لیے خطوط لکھے جائیں گے۔ منشیات کے عادی قیدیوں کے علاج کے لیے ری ہیبلیٹیشن سینٹر سے مدد لینے کے حوالے سے بھی خط ارسال کیا جائے گا ریجنل ڈائریکٹر محتسب اعلیٰ نے ایڈیشنل ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر عبدالغفار کھوسہ کو ہدایت کی کہ قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے این جی اوز کی مدد حاصل کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنظیمیں نہ صرف غریب قیدیوں کی مدد کر سکتی ہیں بلکہ انہیں قانونی معاونت کے لیے وکلاء بھی فراہم کر سکتی ہیں جیل سپرنٹنڈنٹ مظہر علی بیہن نے جیل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ جیل 2005 میں 250 قیدیوں کی گنجائش کے لیے قائم کی گئی تھی، لیکن اس وقت یہاں 886 قیدی موجود ہیں، جن میں سے 48 قیدیوں کی عمر 24 سال سے کم ہے۔ قیدیوں کو جیل کے طے شدہ مینو کے مطابق خوراک فراہم کی جاتی ہے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ریجنل ڈائریکٹر قیدیوں کی جیل کے

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • میسی ارجنٹائن کے صدر بنیں گے؟ نئی پیشگوئی نے سب کو حیران کردیا
  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا