Jasarat News:
2026-07-24@10:18:07 GMT

بدین: ریجنل ڈائریکٹر محتسب بدین کا ڈسٹرکٹ جیل کا دورہ

اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بدین (نمائندہ جسارت ) ریجنل ڈائریکٹر صوبائی محتسب بدین عبدالوہاب میمن نے ڈسٹرکٹ جیل بدین کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے قیدیوں کو فراہم کی جانے والی خوراک، صاف پانی، طبی سہولیات اور دیگر بنیادی ضروریات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے قیدیوں سے ان کے مقدمات کے حوالے سے عدالتوں میں زیرِ سماعت تفصیلات بھی معلوم کیں اس موقع پر ریجنل ڈائریکٹر نے جیل سپرنٹنڈنٹ مظہر علی بیہن کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ قیدیوں کے ساتھ جیل کے قواعد و ضوابط کے مطابق حسن سلوک روا رکھا جائے اور انسانی حقوق کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے مزید زور دیا کہ جیلوں کو قیدیوں کے لیے اصلاحی مراکز بنایا جائے اور ان کی زندگی بہتر بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں تاکہ وہ رہائی کے بعد معاشرے کے مفید شہری بن سکیں ریجنل ڈائریکٹر نے جیل کے لیے ایمبولینس کی عدم دستیابی، قیدیوں کی تعلیم کے لیے اساتذہ کی کمی، پینے کے صاف پانی کی قلت اور ملاقات کی ناقص سہولت کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ محکموں کو سہولیات کی فراہمی کے لیے خطوط لکھے جائیں گے۔ منشیات کے عادی قیدیوں کے علاج کے لیے ری ہیبلیٹیشن سینٹر سے مدد لینے کے حوالے سے بھی خط ارسال کیا جائے گا ریجنل ڈائریکٹر محتسب اعلیٰ نے ایڈیشنل ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر عبدالغفار کھوسہ کو ہدایت کی کہ قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے این جی اوز کی مدد حاصل کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنظیمیں نہ صرف غریب قیدیوں کی مدد کر سکتی ہیں بلکہ انہیں قانونی معاونت کے لیے وکلاء بھی فراہم کر سکتی ہیں جیل سپرنٹنڈنٹ مظہر علی بیہن نے جیل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ جیل 2005 میں 250 قیدیوں کی گنجائش کے لیے قائم کی گئی تھی، لیکن اس وقت یہاں 886 قیدی موجود ہیں، جن میں سے 48 قیدیوں کی عمر 24 سال سے کم ہے۔ قیدیوں کو جیل کے طے شدہ مینو کے مطابق خوراک فراہم کی جاتی ہے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ریجنل ڈائریکٹر قیدیوں کی جیل کے

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • خبردار اپنی سمز کسی اور کو نہ دیں۔۔۔ پی ٹی اے نے اہم ہدایات جاری کردیں۔
  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • میسی ارجنٹائن کے صدر بنیں گے؟ نئی پیشگوئی نے سب کو حیران کردیا
  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق