جانتے ہیں کہ ایران کا انتہائی افزودہ یورینیم کہاں دفن ہے، نیتن یاہو کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
امریکی ٹی وی دیئے گئے ایک انٹرویو میں صیہونی وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ ایرانی سمجھتے ہیں کہ جو کچھ امریکا اور اسرائیل نے ایک بار کیا، وہ دو تین بار بھی کرسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل جانتا ہے کہ ایران نے انتہائی افزودہ یورینیم کہاں زیر زمین دفن کیا ہے۔ امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ ایرانی سمجھتے ہیں کہ جو کچھ امریکا اور اسرائیل نے ایک بار کیا، وہ دو تین بار بھی کرسکتے ہیں۔ نیتن یاہو نے یقین ظاہر کیا کہ ایران جوہری پروگرام کو آگے بڑھائے گا۔ اسرائیلی وزیراعظم نے غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی معاہدہ جلد ہونے کا امکان بھی ظاہر کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نیتن یاہو
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔