یمن ک(اوصاف نیوز) حوثی عسکریت پسند گروپ نے 9 جولائی کو فوٹیج جاری کرتے ہوئے واضع کیا کہ بحرہ احمر میں سرحدی خلاف ورزی کرنیوالے پر اسرائیل جانیوالے جہازکو بحیرہ احمر میں غرق کردیا.جاری ویڈیو میں یونان سے چلنے والے، لائبیریا کے جھنڈے والے جہاز پر حملہ دکھایا گیا ہے۔

یمنی حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ فلسطین میں اسرائیلی اور امریکی جارحیت روکنے کیلئے ضروری ہے کہ فلسطینیوں کیخلاف استعمال ہونیوالے ساز وسامان کو سمندر میں‌ہی غرق کردیا جائے .

انہوں نے ایک تجارتی بحری جہاز پر حملے شروع کئے جب اس نے اسرائیلی بندرگاہ کو استعمال کیا، اور امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو غزہ پر جنگ کی وجہ سے شروع کیے گئے

ایران سے منسلک گروپ کے فوجی ترجمان یحیی ساری نے اعلان میں کہا کہ لائبیریا کے جھنڈے والے بلک کیریئر ٹرانس ورلڈ نیویگیٹر کو براہ راست بحیرہ عرب میں بیلسٹک میزائلوں نے نشانہ بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے جہاز کو نشانہ بنایا گیاجس نےمقبوضہ فلسطین کی بندرگاہوں میں داخلے کی پابندی کی خلاف ورزی کی تھی،” انہوں نے اس سے قبل کی دھمکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی بندرگاہوں پر آنے والے تمام بحری جہازوں کو ہدف تصور کیا جائے گا۔

یہ حملہ ایم وی ٹیوٹر نامی بحری جہاز کے اس ہفتے ڈوبنے کے بعد ہوا، جو کہ اہم سمندری گزرگاہوں میں تجارتی جہازوں کے خلاف مہم میں ایک نئے اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔

ساری نے یو ایس ایس آئزن ہاور پر بیلسٹک اور کروز میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے حملے کا بھی دعویٰ کیا، جس نے غزہ پر اسرائیل کی جنگ کے آغاز کے بعد سے خطے میں امریکی بحریہ کی کارروائیوں کی قیادت کی ہے۔

ساری نے وضاحت کیے بغیر کہا کہ “آپریشن نے کامیابی سے اپنے مقاصد حاصل کیے ہیں”۔ ایک نامعلوم امریکی اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ یہ دعویٰ “غلط” ہے۔

حوثیوں اور ان کی حمایت کرنے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے بار بار بحیرہ احمر میں طیارہ بردار بحری جہاز کو مار گرانے یا اسے ڈوبنے کا دعویٰ کیا ہے۔

https://news.sky.com/video/yemens-houthis-claim-responsibility-for-attack-on-greek-ship-in-red-sea-13394788

یہ اعلان اس کے فوراً بعد سامنے آیا جب امریکی حکام نے مبینہ طور پر یو ایس ایس آئزن ہاور کو آٹھ ماہ سے زیادہ تعیناتی کے بعد وطن واپس آنے کا حکم دیا، جس کی جگہ بحرالکاہل میں کام کرنے والا دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز اس کی جگہ لے گا۔
دہلی میں زلزلے کے شدید جھٹکے، عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: بحری جہاز

پڑھیں:

صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا

متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔ 

ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام