data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی میزبانی میں منعقدہ تقریب کے دوران وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے نان فارمل ایجوکیشن کی سالانہ رپورٹ کا اجرا کردیا۔۔ تقریب میں مختلف تعلیمی اداروں، پالیسی سازوں اور ترقیاتی شراکت داروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

رپورٹ کو پاکستان میں نان فارمل ایجوکیشن کے لیے ایک قابلِ اعتماد ڈیٹا سورس قرار دیا جا رہا ہے، جو آئندہ پالیسی سازی، منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے لیے بنیاد فراہم کرے گی۔ ڈاکٹر خالد مقبول نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیٹا صرف نمبرز کا مجموعہ نہیں بلکہ پالیسی کے فیصلوں کے لیے ایک روشن چراغ کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم وہ ہتھیار ہے جو ذہنوں کو آزاد کرتا ہے اور معاشرتی بیداری کی راہیں ہموار کرتا ہے۔

انہوں نے اس رپورٹ کی تیاری میں شامل اداروں، خصوصاً جائیکا کے AQAL پروجیکٹ اور PIE کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی مشترکہ کاوشوں سے یہ ممکن ہو پایا ہے۔

ڈاکٹر خالد مقبول نے زور دیا کہ وفاقی نان فارمل ایجوکیشن پالیسی 2025 کی تیاری آخری مراحل میں ہے، جس کا ہدف ’’زیرو آؤٹ آف اسکول چلڈرن‘‘کا حصول ہے۔ نیشنل ایکشن پلان برائے نان فارمل ایجوکیشن 2025 پر بھی سنجیدگی سے کام جاری ہے تاکہ تعلیم کی رسائی، معیار اور گورننس میں بہتری لائی جا سکے۔

وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ بہت جلد اساتذہ کے لیے ایک جامع مینجمنٹ فریم ورک اور اسٹینڈرڈ اسسمنٹ سسٹم متعارف کروایا جائے گا تاکہ تعلیم کا معیار یکساں اور قابلِ اعتماد ہو۔ اسیلریٹڈ لرننگ پروگرامز کے ذریعے ایسے لاکھوں بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام میں لایا جا رہا ہے جو مختلف وجوہات کی بنا پر اسکولوں سے باہر ہیں۔

اس موقع پر انہوں نے پاکستانی معاشرے میں رائج تعلیمی ناہمواریوں پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے میڈیکل کالجوں میں 80 فیصد طالبات زیر تعلیم ہیں لیکن ان میں سے اکثر شادی کے بعد عملی شعبے میں نظر نہیں آتیں۔ یہ تعلیمی سرمایہ گھروں میں بیٹھ جاتا ہے، جسے سماجی رویوں میں تبدیلی لا کر قومی ترقی کا حصہ بنانا ہو گا۔

ڈاکٹر خالد مقبول نے مزید کہا کہ پاکستان کوئی سادہ جغرافیائی اکائی نہیں بلکہ ایک نظریاتی ریاست ہے، جس کی بنیاد وعدے اور وژن پر رکھی گئی۔ ہمیں ایسی تعلیم کی ضرورت ہے جو محض ڈگری نہیں، بلکہ ذہنی بلوغت، معاشرتی آگاہی اور انفرادی شعور پیدا کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نان فارمل ایجوکیشن ڈاکٹر خالد مقبول انہوں نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے راس ایکسپو 2026 کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان روبوٹکس، آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور حکومت جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی جامعات، اساتذہ، طلبہ، صنعت اور مختلف ادارے مل کر ایک ایسا مضبوط ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) تشکیل دے رہے ہیں، جو پاکستان کو روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کی عالمی صنعت میں نمایاں مقام دلانے میں مدد دے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 2 روز کے دوران منعقد ہونے والی راس ایکسپو میں جدید ٹیکنالوجی کے متعدد نمونے پیش کیے گئے۔ نمائش میں صنعتی آٹومیشن، مکینیکل روبوٹس، خودکار نظام، دفاعی شعبے کے جدید آلات، فوجی ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس، نیویگیشن سسٹمز اور جدید سمیولیٹرز نے شرکاء کی توجہ حاصل کی۔

شزا فاطمہ نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی اس نوعیت کی نمائشوں کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں، تعلیمی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میسر آ سکے اور پاکستان میں ٹیکنالوجی پر مبنی صنعت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایکسپو کے دوران دو اہم اعلانات بھی کیے، جن میں روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 20 ملین ڈالر کی معاونت شامل ہے۔ اس کے علاوہ صنعت کے لیے ایسے سمیولیٹرز تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، جن کی مدد سے کاروباری ادارے اپنی پیداواری سرگرمیوں کا عملی جائزہ لے سکیں اور آٹومیشن کے معاشی فوائد کا اندازہ لگا سکیں۔

وفاقی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جدید مشینیں انسانوں کی ملازمتیں ختم کر دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی ملازمتیں ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت تبدیل کرتی ہے۔ مستقبل میں ایسے افراد کی ضرورت ہوگی جو روبوٹس اور جدید مشینوں کو تیار کرنے، چلانے اور ان کی دیکھ بھال کی مہارت رکھتے ہوں۔

انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ریاضی، الیکٹریکل انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسے شعبوں کا انتخاب کریں، کیونکہ مستقبل کی معیشت انہی مہارتوں پر استوار ہوگی۔ شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ پاکستان کی معیشت، صنعت اور قومی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

شزا فاطمہ وفاقی وزیر

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا