پنشن سرکاری ملازم کا حق ہے، حکومت کا کوئی حق نہیں، عدالت عظمیٰ
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (صباح نیوز) عدالت عظمیٰ پاکستان کے سینئر جج جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے ہیں کہ خاتون پنشنر کی بیٹی کی شادی ہوگئی اور پھر طلاق ہوگئی تواس کاکھانا پینا، خرچہ کہاں سے چلے گا؟ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں جسٹس عائشہ اے ملک پر مشتمل 2رکنی بینچ نے جمعرات کے روز حکومت سندھ، کراچی اور دیگر کی جانب سے طلاق یافتہ بیٹی کو والدہ کی پنشن دینے کے معاملے پر مسمات صورتھ فاطمہ کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔ سندھ حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سبطین محمود پیش ہوئے۔ جسٹس محمد علی مظہر کا
کہنا تھا کہ خاتون پنشنر کی بیٹی کی شادی ہوگئی اور پھر طلاق ہوگئی تو اس کا کھانا پینا، خرچہ کہاں سے چلے گا؟ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ جسٹس عائشہ ملک کا کہنا تھا کہ پنشن پر حکومت کا کوئی حق نہیں یہ سرکاری ملازم کا حق ہے، سندھ حکومت کی جانب سے درخواست دائر کرنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔ جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ لڑکی خوشی سے طلاق تو نہیں لے رہی، پنشن فلاح کیلیے ہے، سندھ حکومت کا کوئی کیس نہیں بنتا، سوری، درخواست خارج کی جاتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جسٹس محمد علی مظہر
پڑھیں:
حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اہلِ سنت پاکستان کراچی کے وفد نے حضرت علامہ سید شاہ عبد الحق قادری کی قیادت میں سندھ کے صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دینی امور، مساجد، مدارس، محکمہ اوقاف کے زیر انتظام مزاراتِ اولیائے کرام کی دیکھ بھال زائرین کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد میں سید رفیق شاہ، مفتی بلال قادری، مولانا جمیل احمد امینی، عبداللہ میمن اور شفیع رانا قادری بھی شامل تھے۔ وفد نے صوبائی وزیر کو کراچی سمیت سندھ بھر میں مساجد، مدارس اور مزارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور مختلف تجاویز پیش کیں۔
شاہ عبد الحق قادری نے اس موقع پر کہا کہ حکومتی ادارے مساجد، مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان کریں۔ انہوں نے محکمہ اوقاف کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے، انتظامی مسائل کے حل اور مسلسل رابطہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔