Nawaiwaqt:
2026-07-24@08:57:15 GMT

حکومت نے پی ایس ڈی پی اخراجات 1.05 ٹریلین روپے تک بڑھا دیے

اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT

حکومت نے پی ایس ڈی پی اخراجات 1.05 ٹریلین روپے تک بڑھا دیے

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے جمعرات کو اعلان کیا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران وفاقی ترقیاتی اخراجات 1.05 ٹریلین روپے کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئے، جس کی وجہ بیرونی ترقیاتی قرضوں کی بکنگ اور مالی سال کے اختتام پر بجٹ کنٹرولرز کی جانب سے فنڈز کا اجرا تھا۔یہ پیشرفت وزارت منصوبہ بندی کی اس کوشش کا اختتام ثابت ہوئی، جس کا مقصد 1.

1 ٹریلین روپے کے نظرثانی شدہ ترقیاتی بجٹ کو مکمل استعمال کرنا تھا، جبکہ وزارت خزانہ نے فنڈز کے اجرا کو سست کرتے ہوئے اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (AGPR) کے سسٹمز کو جزوی طور پر بند کر دیا تھا۔احسن اقبال نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (PSDP) کے اخراجات مالی سال 2024-25 میں 1.046 ٹریلین روپے کی سطح تک پہنچے۔گزشتہ ہفتے وزیر منصوبہ بندی نے دی ایکسپریس ٹریبیون سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی تھی کہ AGPR کی سست رفتاری کی وجہ سے پی ایس ڈی پی اخراجات 905 ارب روپے پر رک گئے تھے۔تاہم مالی سال کے اختتام کے بعد وزارت خزانہ نے عارضی طور پر اندازہ لگایا کہ انھوں نے آئی ایم ایفسے طے شدہ بنیادی بجٹ سرپلس ہدف حاصل کر لیا ہے۔وزارت منصوبہ بندی کی رپورٹ کے مطابق 2 جولائی سے 9 جولائی کے دوران مزید 141 ارب روپے کے اخراجات بک کیے گئے، جس سے کل اخراجات 1.046 ٹریلین روپے تک جا پہنچے۔ صرف جون کے مہینے میں 449 ارب روپے (کل کا 43 فیصد) خرچ کیے گئے، جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔وزیر منصوبہ بندی کے مطابق ان اضافی اخراجات میں 80 ارب روپے کے مزید غیر ملکی قرضے بھی شامل تھے، جبکہ AGPR کی جانب سے مزید فنڈز کا اجرا کیا گیا۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ٹریلین روپے مالی سال ارب روپے

پڑھیں:

کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم

— فائل فوٹو 

سندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔

عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔

عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔

کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔

اصل ملزمان کو بچانے کیلئے اسسٹنٹ ایکسائز افسر کو نامزد کیا گیا، وکیل

کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...

جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • 5 دنوں میں پٹرول اور ڈیزل اوسطاً 54 روپے بڑھا دیا گیا: تیمور جھگڑا