بھارت کیساتھ ملٹری لیول سیز فائر جاری ہے مگر بھارتی سیاسی قیادت سے یہ برداشت نہیں ہورہا، اسحاق ڈار WhatsAppFacebookTwitter 0 11 July, 2025 سب نیوز

کوالالمپور(آئی پی ایس) نائب وزیرعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ سیز فائر جاری ہے مگر بھارتی سیاسی قیادت سے یہ بات برداشت نہیں ہو رہی۔

کوالا لمپور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھارت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک بھارت فوجی سطح پر سیزفائر مکمل طور پر مؤثر ہے، مگر نئی دہلی کی سیاسی قیادت اس حقیقت کو برداشت نہیں کر پا رہی۔

اسحاق ڈار نے ملائیشیا کے دارالحکومت میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے سخت اقتصادی حالات میں کامیابی سے ٹیک آف کیا ہے اور ہمارا اگلا ہدف دنیا کی بڑی معیشتوں کے گروپ “جی 20” میں شمولیت ہے۔

انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر کے غیر سنجیدہ اور اشتعال انگیز رویہ اختیار کیا،تاہم انہوں نے واضح کیا کہ بھارت نہ تو پاکستان کا پانی روک سکتا ہے اور نہ ہی دریاؤں کا قدرتی بہاؤ موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بھارتی اقدام پر مؤثر ردعمل دیتے ہوئے بھارت کی ایئرلائنز کے لیے پاکستانی فضائی حدود بند کر دی تھیں اور اب عالمی سطح پر بھارت تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھارت کو مؤثر جواب دینے کا متفقہ فیصلہ کیا گیا تھا، جس کے بعد پاکستانی فضائیہ نے دشمن کے 6 جنگی طیارے تباہ کیے، جن میں 4 جدید رافیل طیارے بھی شامل تھے۔ بھارت نے جان بوجھ کر اپنے 2 میزائل سکھ آبادی میں گرا کر اپنی ہی قوم کو نقصان پہنچایا، تاہم بین الاقوامی برادری نے بھارتی مؤقف کو مسترد کر دیا۔

انہوں نے بتایا کہ ایک موقع پر صبح سوا 8 بجے امریکی وزیر خارجہ نے فون پر اطلاع دی کہ بھارت سیزفائر چاہتا ہے۔ جنگ چھیڑنے والا بھی بھارت تھا اور ختم کرنے کی درخواست بھی اس نے ہی کی۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک کی افواج اب اپنی دفاعی پوزیشنز تبدیل کر چکی ہیں۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا میزائل پروگرام ملک کے دفاع کی مضبوط ڈھال ہے۔

افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کابل میں چائے پینے اور دہشت گردوں کے لیے بارڈر کھولنے جیسی پالیسیوں نے پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرحمیرا اصغر کی پوسٹ مارٹم رپورٹ منظر عام پر، مزید چونکا دینے والے انکشافات شاہ محمود ،سرفراز چیمہ اور محمود الرشید کی 9 مئی کیس میں بریت کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا گیا عافیہ صدیقی کیس؛ وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کا عندیہ غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کے دوران مستقل امن پر بات چیت ہوگی، نیتن یاہو سپریم کورٹ کا پی ٹی سی ایل پنشنرز کے حق میں فیصلہ ، 90 دن میں ادائیگی کا حکم بلوچستان میں پھر دہشتگردی، پنجاب سے تعلق رکھنے والے 9 مسافر شناخت کے بعد قتل پشاور کی عدالت کا پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی کو اسفند یار ولی کو 10لاکھ ہرجانہ دینے کا حکم TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: اسحاق ڈار نے سیاسی قیادت برداشت نہیں کرتے ہوئے کہ بھارت کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور

انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیں تاکہ نئی دہلی کے ساتھ سیاسی مذاکرات کے لیے سازگار فضا قائم ہو سکے۔ذرائع  کے مطابق سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے سیاسی مسائل کے حل کا واحد راستہ بامعنی سیاسی مذاکرات اور مسلسل رابطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو مشترکہ حکمتِ عملی اپناتے ہوئے ایک متحد موقف اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرز پر جموں و کشمیر میں بھی ایک اجتماعی سیاسی نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔

محبوبہ مفتی نے کہا کہ پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن جیسے پلیٹ فارمز کی طرز پر دوبارہ سیاسی اتحاد قائم کیا جانا چاہیے تاکہ مودی حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کئے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشکل اور کشیدہ حالات میں بھی سیاسی رابطے اور بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کی کوششیں جاری رہنی چاہیں۔ کشمیری عوام چاہتے ہیں کہ منتخب عوامی نمائندے ان کے سیاسی حقوق اور وقار کی بحالی کے لیے بھی کردار ادا کریں۔ محبوبہ مفتی نے کشمیری نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی اور بیگانگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اعتماد سازی کے اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے شہری علاقوں میں تعینات قابض بھارتی فورسز کی تعداد کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کشمیری نظربندوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ریلیف فراہم کرنے کی بھی اپیل کی۔

متعلقہ مضامین

  • محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار