چین اور روس کو مشرقی ایشیا تعاون میکانزم کو فروغ دینا چاہئے، چینی وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
چین اور روس کو مشرقی ایشیا تعاون میکانزم کو فروغ دینا چاہئے، چینی وزیر خارجہ WhatsAppFacebookTwitter 0 11 July, 2025 سب نیوز
کوالالمپور :چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات کی ہے۔ جمعہ کے روز چینی میڈیا کے مطابق وانگ ای نے کہا کہ آسیان کے اہم ڈائیلاگ پارٹنرز کی حیثیت سے چین اور روس کو مشرقی ایشیا تعاون کے پلیٹ فارم پر اسٹریٹجک کوآرڈینیشن کو مضبوط بناتے ہوئے عالمی ترقی کے لئے ایک اہم انجن اور مثبت قوت بننے کے لئے مشرقی ایشیا تعاون میکانزم کو فروغ دینا چاہئے۔
لاوروف نے کہا کہ روس اور چین دونوں علاقائی تعاون میں مرکزی کردار ادا کرنے میں آسیان کی حمایت کرتے ہیں، ایشیا بحرالکاہل کے خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لئے پرعزم ہیں، اور خطے میں تقسیم پیدا کرنے اور محاذ آرائی اکسانے کے لئے بعض بڑی طاقتوں کی سازشوں سے چوکس رہے ہیں۔ روس شنگھائی تعاون تنظیم میں چین کی صدارت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور چین کے ساتھ مل کر اگلے مرحلے میں اعلیٰ سطحی تبادلوں اور مختلف شعبوں میں تعاون کی تیاری کرے گا اور برکس سمیت دیگر فریم ورک کے تحت مواصلات اور تعاون کو مضبوط بنائے گا۔
فریقین نےایران کے جوہری مسئلےاور فلسطین اسرائیل صورتحال سمیت مشترکہ تشویش کے بین الاقوامی اور علاقائی ہاٹ اسپاٹ ایشوز پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اسی روز وانگ ای نے کوالالمپور میں بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے خارجہ امور کے سربراہ توحید حسین سے بھی ملاقات کی۔
اس موقع پر وانگ ای نے کہا کہ اس سال چین بنگلہ دیش سفارتی تعلقات کے قیام کی 50 ویں سالگرہ ہے اور چین جدید کاری کے حصول اور ایشیا کی ترقی اور احیاء کےلئے بنگلادیش سمیت جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہے۔توحید حسین کا کہنا تھا کہ چین بنگلادیش کے لئے قابل اعتماد شراکت دار اور دوست ہے ۔ بنگلہ دیش ایک چین کے اصول پر سختی سے کاربند ہے اور سفارتی تعلقات کے قیام کی 50 ویں سالگرہ کے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو ایک نئی بلندی تک لے جانے کا خواہاں ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعالمی تہذیبوں کے مکالمے پر وزارتی کانفرنس میں شرکا کا اظہار خیال عالمی تہذیبوں کے مکالمے پر وزارتی کانفرنس میں شرکا کا اظہار خیال بحری ترقی میں نجی شعبے کا کردار قابل تحسین ہے، وفاقی وزیر بحری امور پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس ریکارڈ سطح پر، ڈالر سستا ہوگیا 80 سے زائد چینی اور غیر ملکی اکیڈمیشنز کی ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس میں شرکت کی تصدیق چین آسیان کو اپنی ہمسایہ سفارتکاری کے لئے ترجیح کے طور پر دیکھتا ہے، چینی وزیر خارجہ چین عرب تعلقات تاریخ کے بہترین دور میں داخل ہو گئے ہیں، چینی وزیراعظمCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مشرقی ایشیا تعاون چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے کے لئے
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔