کراچی:

سندھ سمیت پورے پاکستان میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی سطح پر نئی گریڈنگ پالیسی کو مزید ایک سال کے لئے موخر کردیا گیا، اب حال ہی میں ختم ہوئے میٹرک اور انٹر کے سالانہ امتحانات 2025ء پر نئی گریڈنگ پالیسی کا اطلاق نہیں ہوگا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اس سلسلے میں باقاعدہ ایک نوٹی فکیشن جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق اب نئی گریڈنگ پالیسی سالانہ امتحانات 2026ء سے قابل عمل ہوگی۔

یاد رہے کہ آئی بی سی سی کے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے بعد حکومت سندھ نے بھی میٹرک اور انٹر کی سطح پر نئی گریڈنگ پالیسی سال 2025ء سے نافذ العمل ہونے کا نوٹی فکیشن 15 اکتوبر 2024ء کو جاری کیا تھا۔

اس میں گریڈنگ پالیسی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس نئی پالیسی کے تحت سال 2025ء سے ایس ایس سی (سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ) اور ایچ ایس سی (ہائر سیکنڈری اسکول) کے تمام مضامین کے پاسنگ مارکس 33 سے بڑھاکر 40 کیے کیے جارہے ہیں۔

اس گریڈنگ اسکیم کا اطلاق نویں اور گیارہویں کلاسز سے ہوگا اور نتائج ابتداء میں گریڈ پوائنٹ اور ازاں بعد گریڈ پوائنٹ ایوریج سے جاری ہوں گے تاہم اب حکومت سندھ کے محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز نے ایک نیا نوٹی فکیشن جاری کیا ہے جس میں اپنے ہی ماضی کے 15 اکتوبر کے نوٹی فکیشن اور آئی بی سی سی کے 18 جون 2025ء کے نوٹی فکیشن کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات کی اطلاع دی ہے کہ مذکورہ گریڈنگ پالیسی اب میٹرک اور انٹر کی سطح پر سالانہ امتحانات 2026ء سے نافذ العمل ہوگی۔

نئی گریڈنگ پالیسی ہے کیا؟

اس نئی گریڈنگ پالیسی کے تحت ++A گریڈ 95 سے 100 فیصد مارکس کے مساوی ہوگا جسے exceptional گریڈ کا نام دیا گیا ہے اور اس کی جی پی اے 5.

0 ہوگی۔

اسی طرح A+ 90 سے 94 فیصد مارکس کے مساوی out standing گریڈ، A گریڈ 85 سے 89 مارکس کے مساوی excellent گریڈ، B++ گریڈ 80 سے 84 مارکس کے مساوی اور very good گریڈ جبکہ B+ گریڈ 75 سے 79 مارکس کے مساوی اور good کہلائے گا جبکہ بی، سی، ڈی اور ای گریڈ بالترتیب fairly good, above average,  average, below average کہلائے گے 40 مارکس سے کم مارکس والا فیل تصور ہوگا لیکن اسے فیل کے بجائے unsatisfactory کا نام دیا گیا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نئی گریڈنگ پالیسی مارکس کے مساوی نوٹی فکیشن میٹرک اور

پڑھیں:

کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے

فائل فوٹو

کوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔

چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے پشاور میں اثاثے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔

نیب حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں، جن میں نقد رقم، سونا، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں، اثاثوں کی واپسی منظم اور جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔

نیب حکام کے مطابق کوہستان مالیاتی کرپشن میں سرکاری فنڈز سے 37 ارب روپے سے زائد کا غبن ہوا ہے، پیچیدہ مالیاتی غبن کو مؤثر تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کیا گیا۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب خیبر پختونخوا فرمان اللہ اور تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کوہستان مالیاتی کرپشن میں مزید ریکوری کا عمل جاری ہے، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مزید اثاثے خیبر پختونخوا حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، عوامی وسائل قومی امانت ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف