امریکا نے بھارت پر 10 فیصد ٹیرف لگا دیا، مودی سرکار کو ٹرمپ کا زبردست جھٹکا
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت سمیت برکس (BRICS) ممالک پر سخت تجارتی پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ بھارت کو بھی 10 فیصد ٹیرف دینا ہوگا، اور کسی قسم کی تجارتی رعایت یا استثنیٰ نہیں دی جائے گی۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ "برکس کا قیام امریکی معیشت کو نقصان پہنچانے اور ڈالر کو کمزور کرنے کے لیے کیا گیا۔ اگر کوئی ڈالر کو چیلنج کرے گا تو ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے۔"
انہوں نے واضح کیا کہ بھارت بھی چونکہ برکس کا حصہ ہے، اس لیے وہ بھی نئی ٹیرف پالیسی کے دائرے میں شامل ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے بھارت کی برآمدات متاثر ہوں گی، جبکہ امریکی منڈی میں بھارتی مصنوعات مہنگی ہو جائیں گی۔
بھارت پہلے ہی اندرونی اقتصادی بحران اور زرِ مبادلہ کے دباؤ سے دوچار ہے، اب اس نئی امریکی پالیسی نے بھارتی معیشت کو مزید جھنجھوڑ دیا ہے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق مودی حکومت کی غیر متوازن خارجہ پالیسی اور امریکہ و چین کے درمیان دو طرفہ تعلقات میں الجھنے کے باعث بھارت کو عالمی سطح پر سفارتی تنہائی اور معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔