مبینہ کرپشن کی شکایت پر سیکشن افسر مظفر بیگ کو عہدے سے برطرف
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)سپرنینڈ آف ٹریفک پولیس حیدرآباد عطا محمد نظامانی نے سیاسی سفارشی سیکشن افسر تعلقہ لطیف آباد کو شکایت پر عہدے سے ہٹادیا گیا۔عہدے سے ہٹانے پر اعلیٰ افسران کو مبینہ سیاسی دباو¿ کا سامناہے۔ تفصیلات کے مطابق سپرنٹنڈ آف ٹریفک پولیس حیدرآباد نے 8ماہ سے سیاسی سفارش پر تعینات تعلقہ لطیف آباد سیکشن افسر مظفر بیگ کو
مبینہ شکایت اور کرپشن پر عہدے سے ہٹا دیا۔جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق مظفر بیگ کو ہٹا کر سیکشن افسر طاہر خانزادہ کو مذکورہ پوسٹ پر تعینات کردیا گیا۔ مذکورہ افسر سیاسی بنیادوں پر تعینات تھاجو کہ بھتا کی صورت میں عام شہریوں سے چیکنگ کے نام پر اور غیر قانونی رہائشی علاقوں میں چلنے والے ٹرانسپورٹ اڈووں سے لاکھوں روپے بھتاوصول کرتا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سیکشن افسر
پڑھیں:
نواز شریف پہلے یہ بتائیں ووٹ کو عزت کب دینی ہے؟ شرجیل میمن کا ردعمل
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے میر پور جلسے میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ن لیگ خیراتی مینڈیٹ والی جماعت ہے، اس کے منہ سے الیکشن اور ووٹوں کی باتیں اچھی نہیں لگتیں، میاں نواز شریف صاحب یہ بتائیں کہ ووٹ کو عزت کب دینی ہے؟
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ نواز شریف صاحب، سیاست ہوتی رہے گی، سندھ اور کشمیر کی سرزمین و عوام کو طنز و مزاح کا موضوع مت بنائیں، سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر کسی بھی صوبے، شہر یا علاقے کی تضحیک کسی صورت قابلِ قبول نہیں، سابق وزیر اعظم کا یہ رویہ نہ صرف غیر سنجیدہ بلکہ مضحکہ خیز بھی ہے۔
سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ آپ کے بیان نے لاکھوں پاکستانیوں، کشمیر اور سندھ کے عوام جذبات کو مجروح کیا ہے،کسی بھی شہر یا ضلع کا نام سیاسی تقریر میں مذاق یا تقابل کے انداز میں استعمال کرنا شعوری پسماندگی ہے، کشمیر پاکستان کی قومی جدوجہد کی علامت ہے ، سندھ کا ہر شہر بھی اتنا ہی محترم اور عزیز ہے۔
مزید پڑھیںآزاد کشمیر میں مخالفین کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں، اب کشمیر کے وارث آگئے ہیں، مریم نواز
بلاول برخودار! کشمیر کو کشمور، میرپور کو میرپور خاص نہ سمجھنا، نواز شریف
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اگرچہ نواز شریف نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا کہ "تلخی نہیں ہونی چاہیے"، لیکن ان کے اپنے الفاظ ہی سیاسی تلخی اور غیر ضروری تقسیم کا باعث بن رہے ہیں، قومی رہنماؤں کو ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جو مختلف علاقوں کے عوام میں احساسِ محرومی یا تفریق کو جنم دیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں بلکہ قومی یکجہتی، باہمی احترام اور سنجیدہ سیاسی رویوں کا متقاضی ہے۔ سندھ اور کشمیر کے عوام اپنی سرزمین و شناخت پر فخر کرتے ہیں اور کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ انہیں سیاسی طنز کا نشانہ بنائے، جو سیاست تقسیم اور تمسخر پر مبنی ہو، وہ قومی مفاد کے بجائے سیاسی نقصان کا سبب بنتی ہے۔