پی ٹی آئی کی پختونخواہ اور مرکزی قیادت احتجاج کیلئے لاہور روانہ۔ روانگی سے قبل خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں پارٹی رہنماؤں کا اہم اجلاس ہوا جس میں بیرسٹر گوہر اور  سلمان اکرم راجہ نے واضح کیا کہ ہم صرف بات چیت کے لیے جا رہے ہیں، گرفتاریوں کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

پی ٹی آئی قیادت نے روانگی سے قبل کے پی کے ہاوس میں مشاورتی اجلاس بلایا، جس میں چیف وہپ عامر ڈوگر نے شرکاء کو روانگی کے پلان سے متعلق بتایا،

انہوں نے کہا پی ٹی آئی قیادت رات لاہور میں ہی گزارے گی، چئیرمین پی آئی  آئی بیر گوہر نے خیبرپختونخوا ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور اراکین اسمبلی کی اسلام آباد میں مشترکہ مشاورت ہوئی ہے۔، ہم صرف پارلیمنٹیریئنز کی سطح پر لاہور جا رہے ہیں، اور وہاں ہماری چند اہم ملاقاتیں طے ہیں۔ سینیٹ انتخابات کے تناظر میں بھی اہم بات چیت ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں گرفتار کرنے کی باتیں بے بنیاد ہیں، کوئی گرفتاری نہیں ہو رہی، اور نہ ہی اس کا کوئی جواز بنتا ہے۔

سلمان اکرم راجہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان کے آئین، جمہوریت، اور پارلیمانی روایات کی بحالی کے لیے نکلے ہیں۔

یہ قافلہ احتجاج کے لیے نہیں بلکہ سیاسی مشاورت اور قومی اتفاق رائے کی کوشش کے لیے لاہور جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 19 کے تحت ہمیں اظہارِ رائے اور آزادانہ نقل و حرکت کا حق حاصل ہے، لیکن پچھلے کچھ عرصے سے یہ حق ہم سے چھینا گیا، اب وقت آ گیا ہے کہ ہم عوام کے مسائل سنیں، ان سے بات کریں اور سیاسی حل نکالیں۔

وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور، پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر، پی ٹی آئی کے چیف وہپ عامر ڈوگر، ایم این ایز علی محمد خان، شاہد خٹک، عاطف خان اور دیگر اہم رہنما قافلے کے ساتھ روانہ ہوں گئے۔

ذرائع کے مطابق یہ قافلہ لاہور میں مختلف ملاقاتیں کرے گا، جن میں آئندہ کی سیاسی حکمت عملی اور سینیٹ انتخابات کے امور زیر غور آئیں گے۔

زیراعلیٰ گنڈاپور نے روانگی سے قبل پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کی اور واضح کیا کہ خیبرپختونخوا کی قیادت ملک کے سیاسی استحکام کے لیے اپوزیشن کے ساتھ مل کر کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی آئینی حدود کے اندر رہ کر ہر فورم پر اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔

خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد آج صبح سے ہی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا رہا۔ وقفے وقفے سے پارٹی قائدین، ایم این ایز اور ایم پی ایز وہاں پہنچتے رہے۔ اجلاس میں شرکاء کو دورے کی تفصیل، ملاقاتوں کا شیڈول، اور پارٹی موقف سے آگاہ کیا گیا۔

چیف وہپ عامر ڈوگر نے رہنماؤں کو دورے کی ترتیب اور سینیٹ انتخابات میں پارٹی پالیسی سے متعلق تفصیل سے بریف کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پی ٹی آئی کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے

بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے ایک آنے والی فلم ’کالا ہرن‘ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے فلم سازوں کو نوٹس جاری کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: میں اکیلا نہیں ہوں، سلمان خان کی انسٹا پوسٹ نے ماں سمیت لاکھوں مداحوں کو بے چین کردیا

فلم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی کہانی سنہ 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے متاثر ہے جس میں سلمان خان کا نام سامنے آیا تھا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان کی قانونی ٹیم نے کاسٹنگ ڈائریکٹر اکشے پانڈے کو نوٹس بھجوایا ہے جس میں فلم کو اداکار کی شخصیت اور ساکھ کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی تشہیری مہم اور ریلیز فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالا ہرن کیس اب بھی راجستھان ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے جبکہ فلم مبینہ طور پر سلمان خان کی شخصیت اور شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔

سلمان خان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل نے نہ تو اپنی شخصیت، نام یا اس واقعے سے متعلق کسی مواد کے استعمال کی اجازت دی ہے اور نہ ہی اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

مزید پڑھیے: سلمان خان کی نقل کیوں کی؟ رجب بٹ نے اپنی اس حرکت کی وجہ بتادی

دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے قانونی نوٹس کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے سلمان خان کے مؤقف کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانونی نوٹس کا مقصد صرف فلم سے وابستہ افراد کو دباؤ میں لانا ہے۔

امیت جانی نے فیس بک پر لکھا کہ سلمان خان کالا ہرن سے وابستہ لوگوں کو قانونی نوٹس کے ذریعے دھمکا رہے ہیں لیکن یہ صرف خوف پیدا کرنے کی کوشش ہے تاکہ لوگ دباؤ میں آ جائیں۔

فلم کے حوالے سے بحث اس وقت مزید تیز ہوگئی جب اس کا پہلا پوسٹر جاری کیا گیا۔ پوسٹر میں ایک شخص کو بندوق تھامے دکھایا گیا ہے جس نے فیروزی رنگ کا وہی بریسلٹ پہن رکھا ہے جو سلمان خان کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: سلمان خان کے 42 سال پرانے قریبی دوست کا انتقال، اداکار کا سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام

فلم سازوں کے مطابق ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگسی‘ حقیقی قانونی تنازعات اور ایکشن پر مبنی کہانی پیش کرے گی جبکہ اس کا ٹیزر 20 جون کو جاری کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

کالا ہرن کیس کیا تھا؟

سنہ1998 میں فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان پر راجستھان کے ضلع جودھ پور کے قریب کنکانی گاؤں میں 2 کالے ہرن شکار کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

اس مقدمے میں سلمان خان کے ساتھ اداکار سیف علی خان، سونالی بیندرے، نیلم اور تبو کے نام بھی شامل تھے تاہم بعد میں دیگر تمام فنکاروں کو بری کر دیا گیا تھا۔

اپریل 2018 میں جودھ پور کی ایک عدالت نے سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 5 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت مل گئی۔

یہ بھی پڑھیے: رنویر سنگھ کے بعدسلمان خان کے بہنوئی کو بھی دھمکی آمیز پیغام موصول

سنہ 2022 میں راجستھان ہائیکورٹ نے اس کیس سے متعلق تمام مقدمات اپنے دائرہ اختیار میں لے لیے تھے جہاں اب بھی کارروائی جاری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بالی ووڈ سلمان خان سلمان خان اور کالا ہرن سلمان خان اور مقدمہ فلم کالا ہرن کالا ہرن

متعلقہ مضامین

  • الیکشن مہم‘ سلمان اکرم راجہ کو دیامر سے واپس بھیج دیا گیا
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار