ژوب میں شہید ہوئے مسافر غلام سعید کا جسد خاکی دیکھ کر والد کا انتقال
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
میاں چنوں(نیوز ڈیسک) ژوب میں پنجابی شناخت کر کے شہید کیے گئے غلام سعید کی لاش دیکھ کر والد بھی شدت غم سے وفات پاگئے۔
میاں چنوں میں غلام سعید کا جسد خاکی آبائی گھر چک نمبر 72 پندرہ ایل پہنچا تو مقتول کے والد غلام سرور نے میت دیکھتے ہی دم توڑ دیا۔
غلام سرور کافی عرصہ سے بیمار تھے، بیماری کی اطلاع پر بیٹا گھر واپس آرہا تھا مگر والد سے ملاقات نہ ہو سکی، دونوں کے جنازے ایک ساتھ اٹھنے پر ہر آنکھ اشک بار ہو گئی۔
باپ بیٹے کی نماز جنازہ گاؤں 72 پندرہ ایل کی سکول گراؤنڈ میں ادا کی گئی، نمازِ جنازہ میں سیاسی، سماجی شخصیات، پولیس اور عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
دنیا پور میں بھی تین جنازے ایک ساتھ اٹھنے پر علاقے میں کہرام مچ گیا، ہر آنکھ نم نظر آئی جبکہ لاہور میں جنید کی نماز جنازہ میں شریک افراد نے بتایا کہ وہ بیوی بچوں کو سسرال چھوڑنے کوئٹہ گیا تھا، واپس میت آئی۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔