ہر محاذ پر کشمیری عوام کیساتھ، حق خود ارادیت کی مکمل حمایت کرتے ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
مظفر آباد(آئی این پی )ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاک فوج کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت کرتی ہے اور ہر محاذ پر ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے سول سوسائٹی کے نمائندوں سے خصوصی ملاقات کی۔ اس موقع پر ایک پراثر سوال و جواب کی نشست کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں کشمیری عوام نے پاکستان اور پاک فوج کے ساتھ اپنے جذبات کا بے ساختہ اظہار کیا۔نشست کے دوران شرکا نے یک زبان ہو کر کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا حاضرین نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ پاکستان اور کشمیر کو دنیا کی کوئی طاقت جدا نہیں کر سکتی۔ اس موقع پر کشمیری عوام نے پاک فوج کی لازوال قربانیوں اور بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔اہلِ کشمیر نے پاک فوج سے محبت کے انوکھے انداز میں اظہار کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کو کشمیری ثقافتی لباس بھی تحفے میں پیش کیا، جو ایک علامتی قدم کے طور پر گہری محبت کی عکاسی کرتا ہے۔تقریب میں شرکا نے پاکستان اور کشمیر کے جھنڈے لہرا کر پاکستان سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا اور یہ نعرہ فضا میں گونجتا رہا کشمیر بنے گا پاکستان۔ کشمیریوں نے اس موقع پر واضح پیغام دیا کہ وہ کل بھی پاکستان کے ساتھ تھے، آج بھی ہیں اور ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے شرکا کے جذبات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت کرتی ہے اور ہر محاذ پر ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کشمیری عوام کے ساتھ پاک فوج نے پاک ایس پی
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔