علی امین گنڈاپور نے عمران خان کی رہائی کیلئے 90 دن کا الٹی میٹم دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے حکومت کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کیلئے 90 دن کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ یا ہم نہیں یا تم نہیں، منزل حاصل کریں گے یا سیاست چھوڑ دیں گے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ ہمارے ارکان فعال نہ کئے تو ہم ان کے وہاں سارے فارغ کر دیں گے، ان کے جو اپوزیشن میں چیئرمین بنے ہوئے ہیں وہاں سب کو فارغ کردوں گا، پنجاب اسمبلی کے ارکان کو معطل کرنا لاقانونیت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے مینڈیٹ پر پہلی بار ڈاکہ نہیں مارا گیا، 2013 میں مینڈیٹ چوری کیا پھر 2018 میں اکثریت کم کرنے کے لئے سسٹم بٹھایا گیا، بانی کا عزم ہے سیاست نہیں ملک کو ٹھیک کرنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کہتے ہیں آؤ میں مذاکرات کیلئے تیار ہوں، عمران خان کہتے ہیں ثابت کر دو میں نے کوئی سازش کی ہے جو سزا دو گے مجھے قبول ہوگی، ہم نے تو جبر برداشت کیا ہے مگر آپ سے برداشت نہیں ہوگا۔علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ناجائز کرو گے تو ناجائز ہم بھی کریں گے، ہمارا لیڈر بے گناہ جیل میں ہے، اس پر کوئی کیس نہیں ہے۔مولانا فضل الرحمان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونوا کا کہنا تھا کہ مولانا خود جعلی مینڈیٹ پر ہیں، عوام نے مولانا فضل الرحمان کو مسترد کیا، مولانا اپنے اندر تبدیلی لے آئیں تو بہت اچھا ہوگا، انہوں نے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کا پنجاب سے موازنہ کریں گے تو یہ زیادتی ہوگی، لاہور میں جلسہ کرنا آئینی حق ہے، حکومت نے اجازت دی تو شکریہ کہوں گا، جلسہ کرنے دیا گیا تو تحفہ بھی دوں گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔