بلوچستان کی ابلاغی جنگ میں انتہائی اہم کردار ادا کرنے والےمیجر انور کاکڑ دہشتگرد حملے میں شہید
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
پشین(نیوز ڈیسک) بلوچستان کے ضلع پشین سے تعلق رکھنے والے پاک فوج کے بہادر افسر میجر محمد انور کاکڑ 19 جولائی 2025 کو کوئٹہ میں ”فتنتہ الہندوستان“ نامی بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشتگرد گروہ کے بزدلانہ حملے میں جامِ شہادت نوش کر گئے۔ وطن کے اس عظیم سپوت نے شہادت کا بلند مرتبہ حاصل کرکے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔
میجر محمد انور کاکڑ شہید ایک طویل عرصے سے بلوچستان میں پاک فوج کے اہم محاذ پر تعینات تھے اور ابلاغی جنگ سمیت مختلف خفیہ محاذوں پر دشمن کے ناپاک عزائم کے خلاف سینہ سپر تھے۔ ان کی خدمات کا ایک نمایاں باب گوادر کے پی سی ہوٹل پر ہونے والا وہ آپریشن ہے جس میں انہوں نے فتنتہ الہندوستان کے دہشتگردوں کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔
قوم کا یہ شیر دل سپاہی گزشتہ دس برسوں سے پاک فوج کا حصہ تھا اور دفاع وطن کے ہر معرکے میں پیش پیش رہا۔ ان کی شہادت نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا کہ ازلی دشمن بھارت، جو روایتی جنگ میں بارہا ذلت آمیز شکست کھا چکا ہے، اب خفیہ دہشتگردی کے ہتھکنڈوں سے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ مگر یہ قوم ہر شہید کے لہو سے مزید مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔
میجر محمد انور کاکڑ شہید اپنے پیچھے والدین، اہلیہ اور تین بیٹے چھوڑ گئے ہیں۔ ان کی قربانی وطنِ عزیز کے ماتھے کا جھومر ہے، اور پوری قوم ان کے اہلِ خانہ کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
پاک فوج کے ترجمان نے شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ بھارت کی سرپرستی میں پلنے والے دہشتگرد گروہوں کو ہر محاذ پر شکست دی جائے گی اور پاکستان کے خلاف ہر سازش کو خاک میں ملا دیا جائے گا۔
قوم کا ہر فرد آج میجر محمد انور کاکڑ شہید کو سلام پیش کرتا ہے، جنہوں نے اپنے لہو سے وطن کی مٹی کو سرخرو کیا۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: میجر محمد انور کاکڑ پاک فوج
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔