بلوچستان میں طاقت کا استعمال بند، پولیس کو اختیارات دیئے جائے، ہدایت الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
اسلام آباد کی طرف رواں لانگ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ بلوچستان کے بارڈرز کھول کر 35 لاکھ بے روزگار افراد کو روزگار و قانونی کاروبار کا موقع دیا جائے۔ سی پیک، سیندک، ریکوڈک کے ثمرات اہل بلوچستان کو دیئے جائے۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی امیر مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے بارڈرز کھول کر 35 لاکھ بے روزگار افراد کو روزگار و قانونی کاروبار کا موقع دیا جائے۔ سی پیک، سیندک، ریکوڈک کے ثمرات اہل بلوچستان کو دیئے جائے۔ یہ بات انہوں نے کوئٹہ سے اسلام آباد کی طرف جانے والی لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ حقوق بلوچستان لانگ مارچ قافلے صوبائی امیرایم پی اے مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کی قیادت میں فورٹ منرو کے راستے پنجاب میں داخل ہوگیا۔ جماعت اسلامی کے صوبائی امیر و رکن بلوچستان اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے خطاب میں کہا کہ طاقت کا استعمال اور فوجی آپریشن بند، سکیورٹی کی ذمہ داری فوج اور ایف سی کے بجائے پولیس و لیویز کو دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ساحل کو ٹرالر مافیاز سے نجات دلا کر مچھیروں، ماہی گیروں کو بے روزگاری مشکلات سے نجات دیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو کھیل و روزگار و تعلیم کے مواقع فراہم کرکے منشیات، اسلحہ، گولی و دہشت گردی سے نجات دلائی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مولانا ہدایت الرحمان بلوچستان کے کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔