پاکستان اسپورٹس بورڈ کا بڑا فیصلہ، اولمپک میڈل جیتنے پر انعامی رقم 3 کروڑ کردی گئی
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) نے بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے قومی کھلاڑیوں کے لیے انعامی رقوم میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے نئی ’ری وائزڈ کیش ایوارڈ پالیسی‘ 34ویں بورڈ اجلاس میں باضابطہ طور پر منظور کر لی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی پالیسی کے تحت اب اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے والے کھلاڑی کو 3 کروڑ روپے دیے جائیں گے، جبکہ پہلے یہ انعامی رقم ایک کروڑ روپے تھی۔ سلور میڈل کے لیے انعامی رقم 2 کروڑ اور برانز میڈل کے لیے ایک کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسپورٹس بورڈ کی جانب سے ارشد ندیم سمیت 36 کھلاڑیوں میں کیش انعامات تقسیم
ایشین گیمز میں سونے کا تمغہ جیتنے والے کھلاڑی کو اب ایک کروڑ 50 لاکھ روپے، سلور میڈل پر 70 لاکھ اور برانز میڈل پر 50 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔
اسی طرح کامن ویلتھ گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے پر 75 لاکھ روپے انعام دیا جائے گا۔ اسنوکر ورلڈ چیمپیئن شپ کے فاتح کو 15 لاکھ جبکہ ایشین چیمپیئن شپ میں کامیابی پر 7 لاکھ 50 ہزار روپے دیے جائیں گے۔
نئی پالیسی میں اسکواش کھلاڑیوں کے لیے بھی خصوصی اعلان کیا گیا ہے، جس کے مطابق برٹش اوپن یا اس کے مساوی عالمی سطح کے ایونٹ میں فتح پر ایک کروڑ روپے انعام دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں اسپورٹس انفراسٹرکچر کی بدحالی کی وجوہات کیا ہیں؟
اس پالیسی کا مقصد قومی سطح پر ایتھلیٹس کو مزید حوصلہ دینا، بین الاقوامی سطح پر بہتر کارکردگی کے لیے تیار کرنا اور پاکستان میں کھیلوں کے فروغ کو تقویت دینا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews انعامی رقم میں اضافہ بین الاقوامی مقابلے پاکستان اسپورٹس نئی پالیسی منظور نمایاں کارکردگی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انعامی رقم میں اضافہ بین الاقوامی مقابلے پاکستان اسپورٹس نئی پالیسی منظور نمایاں کارکردگی وی نیوز پاکستان اسپورٹس کروڑ روپے ایک کروڑ کے لیے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔