Islam Times:
2026-07-24@07:03:51 GMT

ریاست کی رٹ یا عوام کی قربانی؟

اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT

ریاست کی رٹ یا عوام کی قربانی؟

اسلام ٹائمز: یہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں، بلکہ ایک عوامی صدمہ ہے۔ اس پر خاموشی مجرمانہ ہوگی۔ اگر عوام کی آواز کو مسلسل دبایا جاتا رہا، اگر انکی مذہبی آزادیوں پر قدغن لگتی رہی، اگر انکی قربانیوں کا مذاق اڑایا جاتا رہا، تو کل کو ریاست سے اعتماد مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔ یہ وقت ہے کہ حکومت ہوش کے ناخن لے، زائرین کے نقصانات کا ازالہ کرے، سکیورٹی کے نام پر لگائے گئے اس پردے کو شفاف بنایا جائے اور ایک واضح، منظم اور عوام دوست پالیسی وضع کی جائے، تاکہ مذہبی جذبات کی تذلیل نہ ہو۔ تحریر: سید مرتضیٰ عباس

وزیرِ داخلہ سید محسن نقوی کا حالیہ بیان کہ اس سال زائرین کو سڑک کے راستے اربعین کے لیے عراق و ایران جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، ایک سادہ سا جملہ نہیں بلکہ کئی تلخ سوالات کو جنم دیتا ہے۔ کیا واقعی ریاست بلوچستان میں اپنی رٹ قائم رکھنے میں ناکام ہوچکی ہے۔؟ کیا عوام کی مذہبی آزادی، ان کے جذبات، ان کی برسوں کی محنت اور ان کے مالی وسائل اتنے بے وقعت ہوچکے ہیں کہ ایک نوٹیفکیشن سے سب کچھ روند دیا جائے۔؟ یہ فیصلہ حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ، بلوچستان حکومت اور سکیورٹی اداروں کی "وسیع مشاورت" کے بعد سامنے آیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس مشاورت میں عوام، زائرین یا ان کے نمائندے کہاں تھے۔؟ کیا لاکھوں زائرین کی قربانی، جو برسوں سے زیارتِ اربعین کے لیے پیسے جمع کرتے رہے، ان ہوٹل مالکان، بس آپریٹرز اور ویزا ایجنٹس کی محنت جو مہینوں سے اس عمل میں مصروف تھے، سب رائیگاں چلا گیا۔؟

اب تک ہزاروں لوگوں نے: ایرانی اور عراقی ویزا کے لیے درخواستیں دے دی ہیں۔ ٹرانسپورٹ ایڈوانس بُک کر لی ہے۔ ہوٹلوں کی ایڈوانس ادائیگیاں کر دی ہیں۔ کارنیٹ فیسیں جمع کرا چکے ہیں۔ متعدد افراد نے اپنی زندگی کی جمع پونجی زیارت کے لیے خرچ کر دی ہے۔ اب ایک اچانک اعلان سے ان تمام کوششوں اور خوابوں کو زمین بوس کر دیا گیا۔ کسی کو جوابدہ ٹھہرایا گیا۔؟ کوئی کمپنسیشن اسکیم۔؟ کوئی ہنگامی ریلیف۔؟ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جواب "نہیں" ہے۔ اگر یہ فیصلہ واقعی سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر ہے تو یہ ریاست کی کھلی ناکامی کا اعتراف ہے۔ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر یہ غیر اعلانیہ مہرِ تصدیق ہے کہ ریاست خود کہہ رہی ہے: "ہم آپ کو تحفظ نہیں دے سکتے!" اور اگر یہ محض انتظامی نااہلی ہے تو یہ ایک اور بدترین مثال ہے، اس بے حسی کی جو ہمارے حکمرانوں کا وطیرہ بن چکی ہے۔

یہی وہ لمحہ ہے، جہاں سوال اٹھتا ہے: ریاست عوام کے لیے ہے یا عوام ریاست کے لیے۔؟ جب ایک مذہبی فریضے کی ادائیگی کے لیے عوام اتنی بڑی تعداد میں پرامن طریقے سے تیاری کرتے ہیں، تو ریاست کی یہ ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ ان کی راہ ہموار کرے، ان کی مدد کرے۔؟ بجائے اس کے، ان کی امیدیں مسمار کر دی جاتی ہیں۔ وزیراعظم نے اعلان کیا کہ زائرین کو ہوائی راستے سے جانے کی اجازت دی جائے گی اور پروازوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ مگر یہ بھی زمینی حقائق سے نابلد اعلان ہے۔ نہ سب لوگ فضائی سفر کے اخراجات برداشت کرسکتے ہیں، نہ اتنی پروازیں ممکن ہیں کہ وہ لاکھوں زائرین کو سہولت دے سکیں۔

یہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں، بلکہ ایک عوامی صدمہ ہے۔ اس پر خاموشی مجرمانہ ہوگی۔ اگر عوام کی آواز کو مسلسل دبایا جاتا رہا، اگر ان کی مذہبی آزادیوں پر قدغن لگتی رہی، اگر ان کی قربانیوں کا مذاق اڑایا جاتا رہا، تو کل کو ریاست سے اعتماد مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔ یہ وقت ہے کہ حکومت ہوش کے ناخن لے، زائرین کے نقصانات کا ازالہ کرے، سکیورٹی کے نام پر لگائے گئے اس پردے کو شفاف بنایا جائے اور ایک واضح، منظم اور عوام دوست پالیسی وضع کی جائے، تاکہ مذہبی جذبات کی تذلیل نہ ہو۔ ریاست کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ صرف بیانات اور ٹویٹس سے چلے گی، یا اپنے شہریوں کے جذبات، عقائد اور قربانیوں کو بھی اہمیت دے گی۔ اگر ریاست خود کہے کہ "ہم نہیں کرسکتے" تو پھر عوام کس سے امید رکھیں۔؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جاتا رہا عوام کی کے لیے اگر ان

پڑھیں:

حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا

اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 23 جولائی 2026ء ) وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کردیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔ پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ جبکہ ڈیزل کی قیمت فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 62 پیسے اضافہ کر دیا گیا ہے، ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی۔

(جاری ہے)

نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 کے بعد ایک دن کیلئے ہوگا۔ یاد رہے وفاقی کابینہ نے پیٹرولیم مصنوعات کے لیے روزانہ قیمتوں کے تعین کا نیا نظام منظور کر لیا جس کے تحت اوگرا اب پیٹرول اور ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمتیں روزانہ جاری کرے گا۔ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں گزشتہ سات کاروباری دن کی اوسط عالمی قیمت کے مطابق ہوں گی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے حساب سے کیا جائے گا۔ قیمتوں کے اعلان کے لیے وزیراعظم یا وفاقی حکومت کی پیشگی منظوری درکار نہیں ہوگی جبکہ اوگرا بغیر وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے قیمتوں کا اعلان کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر