Islam Times:
2026-06-03@03:33:33 GMT

ریاست کی رٹ یا عوام کی قربانی؟

اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT

ریاست کی رٹ یا عوام کی قربانی؟

اسلام ٹائمز: یہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں، بلکہ ایک عوامی صدمہ ہے۔ اس پر خاموشی مجرمانہ ہوگی۔ اگر عوام کی آواز کو مسلسل دبایا جاتا رہا، اگر انکی مذہبی آزادیوں پر قدغن لگتی رہی، اگر انکی قربانیوں کا مذاق اڑایا جاتا رہا، تو کل کو ریاست سے اعتماد مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔ یہ وقت ہے کہ حکومت ہوش کے ناخن لے، زائرین کے نقصانات کا ازالہ کرے، سکیورٹی کے نام پر لگائے گئے اس پردے کو شفاف بنایا جائے اور ایک واضح، منظم اور عوام دوست پالیسی وضع کی جائے، تاکہ مذہبی جذبات کی تذلیل نہ ہو۔ تحریر: سید مرتضیٰ عباس

وزیرِ داخلہ سید محسن نقوی کا حالیہ بیان کہ اس سال زائرین کو سڑک کے راستے اربعین کے لیے عراق و ایران جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، ایک سادہ سا جملہ نہیں بلکہ کئی تلخ سوالات کو جنم دیتا ہے۔ کیا واقعی ریاست بلوچستان میں اپنی رٹ قائم رکھنے میں ناکام ہوچکی ہے۔؟ کیا عوام کی مذہبی آزادی، ان کے جذبات، ان کی برسوں کی محنت اور ان کے مالی وسائل اتنے بے وقعت ہوچکے ہیں کہ ایک نوٹیفکیشن سے سب کچھ روند دیا جائے۔؟ یہ فیصلہ حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ، بلوچستان حکومت اور سکیورٹی اداروں کی "وسیع مشاورت" کے بعد سامنے آیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس مشاورت میں عوام، زائرین یا ان کے نمائندے کہاں تھے۔؟ کیا لاکھوں زائرین کی قربانی، جو برسوں سے زیارتِ اربعین کے لیے پیسے جمع کرتے رہے، ان ہوٹل مالکان، بس آپریٹرز اور ویزا ایجنٹس کی محنت جو مہینوں سے اس عمل میں مصروف تھے، سب رائیگاں چلا گیا۔؟

اب تک ہزاروں لوگوں نے: ایرانی اور عراقی ویزا کے لیے درخواستیں دے دی ہیں۔ ٹرانسپورٹ ایڈوانس بُک کر لی ہے۔ ہوٹلوں کی ایڈوانس ادائیگیاں کر دی ہیں۔ کارنیٹ فیسیں جمع کرا چکے ہیں۔ متعدد افراد نے اپنی زندگی کی جمع پونجی زیارت کے لیے خرچ کر دی ہے۔ اب ایک اچانک اعلان سے ان تمام کوششوں اور خوابوں کو زمین بوس کر دیا گیا۔ کسی کو جوابدہ ٹھہرایا گیا۔؟ کوئی کمپنسیشن اسکیم۔؟ کوئی ہنگامی ریلیف۔؟ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جواب "نہیں" ہے۔ اگر یہ فیصلہ واقعی سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر ہے تو یہ ریاست کی کھلی ناکامی کا اعتراف ہے۔ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر یہ غیر اعلانیہ مہرِ تصدیق ہے کہ ریاست خود کہہ رہی ہے: "ہم آپ کو تحفظ نہیں دے سکتے!" اور اگر یہ محض انتظامی نااہلی ہے تو یہ ایک اور بدترین مثال ہے، اس بے حسی کی جو ہمارے حکمرانوں کا وطیرہ بن چکی ہے۔

یہی وہ لمحہ ہے، جہاں سوال اٹھتا ہے: ریاست عوام کے لیے ہے یا عوام ریاست کے لیے۔؟ جب ایک مذہبی فریضے کی ادائیگی کے لیے عوام اتنی بڑی تعداد میں پرامن طریقے سے تیاری کرتے ہیں، تو ریاست کی یہ ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ ان کی راہ ہموار کرے، ان کی مدد کرے۔؟ بجائے اس کے، ان کی امیدیں مسمار کر دی جاتی ہیں۔ وزیراعظم نے اعلان کیا کہ زائرین کو ہوائی راستے سے جانے کی اجازت دی جائے گی اور پروازوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ مگر یہ بھی زمینی حقائق سے نابلد اعلان ہے۔ نہ سب لوگ فضائی سفر کے اخراجات برداشت کرسکتے ہیں، نہ اتنی پروازیں ممکن ہیں کہ وہ لاکھوں زائرین کو سہولت دے سکیں۔

یہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں، بلکہ ایک عوامی صدمہ ہے۔ اس پر خاموشی مجرمانہ ہوگی۔ اگر عوام کی آواز کو مسلسل دبایا جاتا رہا، اگر ان کی مذہبی آزادیوں پر قدغن لگتی رہی، اگر ان کی قربانیوں کا مذاق اڑایا جاتا رہا، تو کل کو ریاست سے اعتماد مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔ یہ وقت ہے کہ حکومت ہوش کے ناخن لے، زائرین کے نقصانات کا ازالہ کرے، سکیورٹی کے نام پر لگائے گئے اس پردے کو شفاف بنایا جائے اور ایک واضح، منظم اور عوام دوست پالیسی وضع کی جائے، تاکہ مذہبی جذبات کی تذلیل نہ ہو۔ ریاست کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ صرف بیانات اور ٹویٹس سے چلے گی، یا اپنے شہریوں کے جذبات، عقائد اور قربانیوں کو بھی اہمیت دے گی۔ اگر ریاست خود کہے کہ "ہم نہیں کرسکتے" تو پھر عوام کس سے امید رکھیں۔؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جاتا رہا عوام کی کے لیے اگر ان

پڑھیں:

‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) ‏علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

(جاری ہے)

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا