پی ٹی آئی 5 اگست احتجاج؛ اجازت نہ ملنے پر پلان بی سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
پی ٹی آئی 5 اگست احتجاج؛ اجازت نہ ملنے پر پلان بی سامنے آگیا WhatsAppFacebookTwitter 0 28 July, 2025 سب نیوز
لاہور میں 5 اگست کو احتجاج کی اجازت نہ ملنے پر پی ٹی آئی کا پلان بی سامنے آگیا۔
تفصیلات کے مطابق بڑے احتجاج یا جلسے کی اجازت نہ ملنے کی صورت میں حلقوں میں احتجاج کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے مطابق تحریک انصاف پانچ اگست کو پنجاب کے ہر حلقے میں احتجاج کرے گی اور تمام حلقوں میں احتجاج کی فوٹیج قیادت کو بھیجی جائے گی جبکہ 5 اگست کے بعد بڑے شہروں میں احتجاج کی کال دی جائے گی۔
احتجاجی تحریک کے حوالے سے ڈویژنل تنظیم اور ٹکٹ ہولڈرز کو ہدایت جاری کر دی گئیں جبکہ 5 اگست سے قبل یوسی سطح پر تنظیم سازی مکمل کرکے قیادت کو رپورٹ کی ہدایت بھی کر دی گئی۔
ذرائع کے مطابق احتجاج نہ کرنے والے عہدداروں کے خلاف باقاعدہ کارروائی کی جائے گی، پنجاب حکومت کی جانب سے مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت دیے جانے کا امکان نہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپی اے آر سی میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، 12ملزمان کی عبوری ضمانت میں توسیع پی اے آر سی میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، 12ملزمان کی عبوری ضمانت میں توسیع پی ایس بی نے اسپورٹس فیڈریشنز کیلئے نئے قواعد و ضوابط نافذ کردیے کولمبیئن صدر نے اسرائیل کو کوئلے کی برآمد پر پابندی لگادی، تمام شپمنٹس روک دیں پی ٹی آئی کارکنوں کو اسلام آباد کی عدالت سے بڑاریلیف مل گیا الیکشن کمیشن کو عمرایوب کے خلاف کارروائی کرنے سے روک دیا گیا کن پاکستانیوں کےلئے یواےای کے ویزا چھوٹ کی سہولت بحال ہوگئی؟Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: احتجاج کی پی ٹی ا ئی کے مطابق
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں