مون سون بارشیں: دریاؤں اور ندی نالوں میں طغیانی کا الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
ویب ڈیسک:مون سون بارشوں کے باعث دریاؤں اور ندی نالوں میں طغیانی کا الرٹ جاری کر دیا گیا۔
دریائے راوی، جہلم، ستلج اور چناب کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا، دریائے سندھ میں تربیلا، کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب، گڈو بیراج کے مقام پر پانی کی سطح بلند ہوگئی، دریائے سندھ میں بڑا سیلابی ریلہ ڈی جی خان کی حدود میں داخل ہوگیا۔
جھنگ میں دریائے چناب میں طغیانی سے 10 سے زائد دیہات زیرآب آگئے، فصلوں اور آبادیوں میں پانی داخل ہوگیا، رابطہ سڑکیں ڈوب گئیں، حافظ آباد میں دریائے چناب کے اطراف کٹاؤ میں اضافہ ہوگیا، تونسہ شریف میں دریائے سندھ میں سیلابی صورتحال برقرار رہی، زرعی اراضی دریا برد ہوگئی۔
جنوبی ایشیائی ملک کا 40 ممالک کے لیے ویزا فیس ختم کرنے کا اعلان
سیہون شریف میں کچے کے علاقے میں 10 روز سے سیلابی صورتحال پیدا، تین یونین کونسلز کے متعدد دیہات کا شہروں سے زمینی رابطہ کٹ گیا، بھکر میں دریائے سندھ میں طغیانی سے فصلوں کو نقصان پہنچا، میانوالی کی تحصیل عیسیٰ خیل کے متعدد علاقے زیر آب آگئے۔
سانحہ بابو سر میں لاپتہ افراد میں نجی ٹی وی کی اینکر بھی شامل ہے، سرچ آپریشن کے دوران اینکر کا کارڈ اور پرس مل گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: دریائے سندھ میں میں دریائے میں طغیانی
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔