ریڑھی مافیا کے خلاف آہنی ہاتھ! تحصیلدار چوہدری شفقت محمود کا مسلسل ایکشن، فتح جنگ کی سڑکیں مافیا سے پاک
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
ریڑھی مافیا کے خلاف آہنی ہاتھ! تحصیلدار چوہدری شفقت محمود کا مسلسل ایکشن، فتح جنگ کی سڑکیں مافیا سے پاک WhatsAppFacebookTwitter 0 30 July, 2025 سب نیوز
فتح جنگ() وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن، ڈپٹی کمشنر اٹک عاطف رضا اور اسسٹنٹ کمشنر فتح جنگ محترمہ سورتھ کی ہدایات کی روشنی میں تحصیلدار چوہدری شفقت محمود کی قیادت میں تجاوزات مافیا کے خلاف تاریخی مہم بھرپور انداز سے جاری ہے۔ پہلے مرحلے میں کامیاب آپریشن کے بعد اب روزانہ کی بنیاد پر 4 سے 5 مرتبہ کاروائیاں کی جا رہی ہیں۔
مغرب کے بعد شروع ہونے والے نئے راؤنڈ میں چوہدری شفقت محمود نے ذاتی نگرانی میں وہ چند ایک ریڑھی بان بھی ہٹا دیے جو آپریشن کے بعد دوبارہ نمودار ہو رہے تھے۔ ان کی ریڑھیاں ضبط کر لی گئیں اور سختی سے وارننگ دی گئی کہ دوبارہ عوامی جگہ پر تجاوزات برداشت نہیں کی جائیں گی۔
انتظامیہ کا پہلا راؤنڈ صبح 10 بجے، دوسرا دوپہر، تیسرا شام 5 اور اب چوتھا مغرب کے بعد جب کہ پانچواں رات 10 یا 11 بجے ہو رہا ہے۔ یہ تسلسل فتح جنگ میں پہلی بار دیکھا جا رہا ہے جب انتظامیہ دن کے مختلف اوقات میں سڑکوں کو قابضین سے خالی کروانے کے لیے متحرک ہے۔
چوہدری شفقت محمود کا کہنا ہے کہ مستقل مزاجی اور سختی کے باعث تجاوزات اور ریڑھی مافیا کا تقریباً مکمل خاتمہ ہو چکا ہے۔ صرف چند فیصد باقی ہیں جو بھی جلد انجام کو پہنچیں گے۔ عوامی سڑکیں کھلی اور صاف ہو چکی ہیں، ٹریفک بحال ہے اور شہری آزادانہ آمدورفت کر رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ مہم وقتی نہیں بلکہ ایک مستقل نظام کی بنیاد ہے۔ روزانہ کی نگرانی، عوامی شکایات کا فوری ازالہ اور ریڑھی مافیا کے خلاف سخت ایکشن اس نظام کا حصہ بن چکا ہے۔
دوسری جانب عوامی حلقے، سول سوسائٹی اور شہری تحصیلدار کے اس جراتمندانہ اقدام پر سراپا تحسین ہیں۔ سوشل میڈیا پر “شکریہ شفقت صاحب” کا ٹرینڈ چل پڑا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ برسوں بعد پہلی بار کسی نے عملی قدم اٹھایا ہے اور وہ بھی بغیر کسی سیاسی یا سماجی دباؤ کے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس مہم کو دیگر بازاروں، چوکوں اور گرد و نواح کے علاقوں تک پھیلایا جائے تاکہ فتح جنگ واقعی ایک مثالی تحصیل کے طور پر ابھرے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز: سیمی فائنل میں پاکستان اور بھارت پھر آمنے سامنے آگئے فتح جنگ،تحصیلدار شفقت محمود کی ریڑھی مافیا کیخلاف کارروائی، تجاوزات ختم، سامان ضبط شفقت محمود نے پہلی مرتبہ قبضہ مافیا، لینڈ مافیا ، تجاوزات مافیا، ناجائز منافع خوروں اور غنڈہ گردوں کو نکیل ڈالی فتح جنگ میں غیر معیاری خوراک اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کے خلاف کریک ڈاؤن پنجاب میں مفت وائی فائی کا دائرہ مزید بڑھا دیا گیا، کون سے نئے علاقے شامل؟ جہلم، چکوال: بارش سے تباہی، شہریوں کی نقل مکانی، سیلابی ایمرجنسی نافذ پنجاب اور مصر کے مابین زراعت، لائیواسٹاک اور آبی وسائل کے شعبوں میں تعاون پر اتفاقCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چوہدری شفقت محمود مافیا کے خلاف فتح جنگ
پڑھیں:
امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.
U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.
Command centers.
Drone storage.
Communication networks.
Coastal surveillance.
Maritime capabilities.
AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6
— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔
دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔
???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT
The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.
CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE
— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ