جرمنی: اسٹٹگارٹ کے قریب مسجد کو گرانے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 31 جولائی 2025ء) جرمنی کی جنوب مغربی ریاست باڈن-ویورٹمبرگ میں اسٹٹگارٹ کے قریب لائنفیلڈن-ایخٹرڈنگن قصبے کی سٹی کونسل نے ایک تقریباً مکمل مسجد کو منہدم کرنے کا حکم دیا ہے۔
کونسل نے اکثریتی ووٹ کے ذریعے فیصلہ کیا کہ کولون میں قائم اسلامی ثقافتی مراکز کی تنظیم، جو یہ مسجد تعمیر کر رہی ہے، اس سال کے اختتام تک اپنی لاگت پر مسجد کو گرا دے۔
اس تنظیم کو 2014 میں لائنفیلڈن-ایخٹرڈنگن میں مسجد تعمیر کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
تاہم، اس پر یہ شرط عائد کی گئی تھی کہ تعمیر چار سال کے اندر مکمل ہونی چاہیے، جو کہ تنظیم پوری نہ کر سکی۔
جب اسلامی ثقافتی مراکز کی تنظیم نے معاہدے میں طے شدہ مدت سے تجاوز کیا تو مقامی حکام نے اس کی تعمیراتی اجازت منسوخ کرنے کے لیے قانونی اقدامات کیے۔
(جاری ہے)
کونسل نے نئی جگہ تلاش کرنے میں مدد دینے کا وعدہ کیاایک قانونی جنگ کا آغاز ہوا، جس میں جرمن وفاقی آئینی عدالت نے جنوری 2024 میں بلدیاتی حکام کے حق میں فیصلہ دیا۔
جب مسئلے کے حل کے لیے مزید بات چیت ناکام رہی تو کونسل نے مسجد کو گرانے کا حکم دے دیا۔
اگرچہ کونسل نے اسلامی ثقافتی مراکز کی تنظیم کو کسی نئی جگہ پر مسجد کی تعمیر کے لیے مدد کی پیشکش بھی کی ہے، لیکن تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ موجودہ مسجد کو نہیں گرائے گی۔
تنظیم کے ترجمان نے ایک مقامی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ''ہم، اسلامی ثقافتی مراکز کی تنظیم لائنفیلڈن-ایخٹرڈنگن کی اپنی مقامی شاخ کے فیصلے کے عین مطابق، مسجد کے انہدام پر غور نہیں کر سکتے۔ ہم ایسا مطالبہ نہ مان سکتے ہیں اور نہ ہی اس پر عمل کریں گے۔‘‘
میئر اوٹو روپانر نے اخبار کو بتایا کہ شہر کی کونسل صرف اصل معاہدے کی شرائط پر عمل کر رہی ہے اور اگر ضرورت پڑی تو وہ ''یہ معاملہ عدالت میں لے جانے کے لیے تیار ہیں۔‘‘
ادارت: صلاح الدین زین
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کونسل نے مسجد کو کے لیے
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔
ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔
جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔
وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔
اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔
جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔