طلال چوہدری کا شیعہ علماء کونسل اور ایم ڈبلیو ایم سے ملاقات کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
اپنے ایک بیان میں مجلس وحدت مسلمین کے رہنماؤں نے کہا تھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اچانک زمینی راستوں کو بند کرنا اور زائرین پر پابندی لگانا کسی صورت قبول نہیں، یہ عمل حکومتی انتظامی نااہلی اور عالمی اربین کو متاثر کرنے کی کوشش ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے شیعہ علماء کونسل اور ایم ڈبلیو ایم سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور شیعہ علماء کے درمیان ملاقات کل اسلام آباد میں ہوگی۔ ایم ڈبلیو ایم اور شیعہ علماء کونسل نے اربعین پر زائرین کے زمینی سفر میں پابندی کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔ دوسری جانب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے اجلاس میں علامہ ناصر عباس نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ کربلا میں اربعین کے لیے زمینی راستے سے جانے پر پابندی برقرار رہی تو 50 ارب روپے کا نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر متبادل ذرائع استعمال کیے تو 48 ارب روپے اضافی خرچ ہوں گے، عبادات کے مسائل وزارتِ مذہبی امور زیادہ بہتر سمجھتی ہے، یہ داخلہ کمیٹی کا اختیار نہیں ہے۔
واضح رہے کہ مجلس وحدت مسلمین کے رہنماؤں نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اچانک زمینی راستوں کو بند کرنا اور زائرین پر پابندی لگانا کسی صورت قبول نہیں، یہ عمل حکومتی انتظامی نااہلی اور عالمی اربین کو متاثر کرنے کی کوشش ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک گیر احتجاج کا اعلان کرتے ہیں پہلے مرحلے میں سندھ کے مختلف اضلاع میں احتجاج کیا جائے گا، بندش کو ختم نہیں کیا گیا تو دھرنوں کا اعلان بھی کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شیعہ علماء
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔