پاکستان اور امریکا کے درمیان حالیہ تجارتی معاہدے نے عالمی میڈیا میں کافی توجہ حاصل کی ہے۔ مختلف ادارے اس معاہدے کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں، جس میں اقتصادی، سیاسی اور علاقائی اثرات شامل ہیں۔ ذیل میں چند بڑے عالمی اداروں کے موقف پیش کیے جا رہے ہیں۔

پاکستان اور امریکا کے درمیان معاہدہ اہم سنگ میل ہے، رائٹرز (Reuters)

رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان معاہدہ ایک اہم سنگ میل ہے جو پاکستان کی برآمدات پر عائد ممکنہ ٹریف کو کم کرنے کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔ پاکستان کی وزارت خزانہ نے اسے دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند قرار دیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے میں پاکستان کے تیل کے ذخائر کی مشترکہ ترقی کو نمایاں کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا ایک نیا باب کھول سکتا ہے۔

معاہدے کی بدولت پاکستان کی امریکی مارکیٹ تک رسائی میں نمایاں اضافہ ہوگا، عرب نیوز (Arab News)

عرب نیوز نے پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے بیان کو اجاگر کیا ہے، جنہوں نے اس معاہدے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو بڑھانے، سرمایہ کاری کو فروغ دینے، اور توانائی، معدنیات، آئی ٹی، اور کرپٹو کرنسی جیسے جدید شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ معاہدے کی بدولت پاکستان کی امریکی مارکیٹ تک رسائی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور امریکا کے درمیان تاریخی تجارتی معاہدہ طے پا گیا، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا اظہارِ اطمینان

امریکا اور پاکستان کا مشترکہ ترقی کے لیے معاہدہ، فاکس بزنس (Fox Business)

فاکس بزنس نے صدر ٹرمپ کے سوشل میڈیا پیغام کو نمایاں کیا، جس میں انہوں نے اعلان کیا کہ امریکا اور پاکستان نے تیل کے ذخائر کی مشترکہ ترقی کے لیے معاہدہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک امریکی کمپنی کو شراکت دار کے طور پر منتخب کیا جا رہا ہے اور ممکن ہے کہ مستقبل میں یہ تیل بھارت کو بھی برآمد کیا جائے۔ اس رپورٹ میں دونوں ممالک کے درمیان حالیہ سفارتی اور اقتصادی بات چیت کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔

پاکستان کی برآمدات کو امریکا میں بہتر مواقع میسر آئیں گے، بلومبرگ (Bloomberg)

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی ٹریف میں کمی لانے کا باعث بنے گا، جس سے پاکستان کی برآمدات کو امریکا میں بہتر مواقع میسر آئیں گے۔ اس کے علاوہ، امریکہ پاکستان میں انفراسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کا خواہاں ہے۔ معاہدے سے توانائی کے شعبے میں تعاون کے ساتھ ساتھ مارکیٹ روابط بھی گہرے ہوں گے۔

معاہدے کے ذریعے پاکستان کو اہم امریکی تجارتی شراکت دار کے طور پر مضبوط کیا جا رہا ہے، سی این این (CNN)

سی این این نے اس تجارتی معاہدے کو خطے میں امریکا کی اقتصادی حکمت عملی کے تناظر میں دیکھا ہے۔ ادارے نے رپورٹ کیا کہ یہ معاہدہ امریکی صدر کی جانب سے تجارتی تعلقات کو منظم کرنے اور علاقائی اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ سی این این کے مطابق، اس معاہدے کے ذریعے پاکستان کو امریکا کی اہم تجارتی شراکت دار کے طور پر مضبوط کیا جا رہا ہے تاکہ چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کا مقابلہ کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں:پاک-امریکا تجارتی ڈیل ہوگئی، اب تک کیا کچھ ہوا؟

معاہدہ دونوں ممالک کے تعلقات میں نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے، بی بی سی (BBC)

بی بی سی نے اس معاہدے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر توانائی کے شعبے میں تعاون کی بدولت۔ بی بی سی نے یہ بھی ذکر کیا کہ امریکا کی جانب سے بھارت پر 25 فیصد ٹریف عائد کرنے کے بعد یہ معاہدہ جنوبی ایشیا میں سیاسی اور تجارتی توازن میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

اب پاکستانی تیل بھارت کو بھی بیچا جائے گا، دی اکنامک ٹائمز (The Economic Times)

ہندوستانی اخبار دی اکنامک ٹائمز نے ٹرمپ کے اعلان کو زیر بحث لاتے ہوئے لکھا کہ امریکہ نے پاکستان کے ساتھ ایک تجارتی معاہدہ طے کیا ہے جس میں پاکستان کے تیل کے ذخائر کی ترقی شامل ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کے طنزیہ تبصرے کو بھی شامل کیا کہ شاید یہ تیل بھارت کو بھی بیچا جائے گا۔ یہ رپورٹ اس معاہدے کی سیاسی پیچیدگیوں اور علاقائی اثرات کو اجاگر کرتی ہے۔

تجارتی معاہدے سے امریکا اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں گہرا تعاون سامنے آ رہا ہے، این ڈی ٹی وی (NDTV)

این ڈی ٹی وی کے مطابق، اس تجارتی معاہدے سے امریکا اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں گہرا تعاون سامنے آ رہا ہے، خاص طور پر توانائی کے شعبے میں۔ این ڈی ٹی وی نے بتایا کہ اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کی معیشتوں کو مستحکم کرنا اور علاقائی استحکام میں مدد فراہم کرنا ہے، جس میں ٹریف کی کمی بھی شامل ہے۔

مزید پڑھیں: پاک امریکا تاریخی تجارتی معاہدہ طے پانے پر وزیراعظم شہباز شریف کا صدر ٹرمپ کا شکریہ

دنیا کے بڑے میڈیا ادارے پاک امریکا تجارتی معاہدے کو نہ صرف اقتصادی لحاظ سے اہم قرار دے رہے ہیں بلکہ اس کے سیاسی اور علاقائی اثرات کو بھی خاص اہمیت دے رہے ہیں۔ معاہدے میں ٹریف کی کمی، توانائی کے شعبے میں شراکت داری، اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پر زور دیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی، اس معاہدے کو جنوبی ایشیا میں امریکا اور پاکستان کے تعلقات کو گہرائی فراہم کرنے والا اور چین اور بھارت جیسے خطے کے دیگر بڑے کھلاڑیوں کے ساتھ توازن قائم کرنے والا قدم سمجھا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

این ڈی ٹی وی بلومبرگ بی بی سی پاک امریکا معاہدہ ٹرمپ دی اکنامک ٹائمز رائٹرز، سی این این عرب نیوز فاکس بزنس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: این ڈی ٹی وی بلومبرگ پاک امریکا معاہدہ دی اکنامک ٹائمز سی این این عرب نیوز فاکس بزنس پاکستان اور امریکا کے درمیان دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں امریکا اور پاکستان تجارتی معاہدے اور علاقائی پاک امریکا تعلقات میں پاکستان کی پاکستان کے اس معاہدے معاہدے کو یہ معاہدہ جا رہا ہے رہے ہیں سکتا ہے کیا جا کو بھی کیا کہ کے لیے کیا ہے

پڑھیں:

ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔

ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔

ایران جنگ پر سوالات

کانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔

جنگ کے معاشی اثرات

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا

ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقف

مارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ

روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ

مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار