ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ کوالیفائر 2026 کے میزبان ملک کا اعلان ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
کراچی:
ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے کوالیفائر میچز کے انعقاد کے لیے میزبان ملک کے نام کا اعلان کر دیا گیا۔
کرک انفو کے مطابق ورلڈ کپ کوالیفائر کی میزبانی نیپال کرے گا جس کے تمام میچز دارالحکومت کھٹمنڈو کے اپر اور لوئر مولپانی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔
کوالیفائر میچز 12 جنوری سے 2 فروری کے درمیان کھیلے جائیں گے جبکہ ٹورنامنٹ کے مکمل شیڈول کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ 10 میں سے 4 ٹیمیں ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر سکیں گی اور اب تک پانچ ٹیمیں بنگلا دیش، آئرلینڈ، تھائی لینڈ، نیپال اور امریکا پہلے ہی کوالیفائی کر چکی ہیں۔
ٹی20 ورلڈ کپ کوالیفائر میں 10 ٹیموں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا جائے گا، ہر گروپ میں پانچ پانچ ٹیمیں ہوں گی۔ ان میں سے بہترین چھ ٹیمیں سپر سکس مرحلے میں جگہ بنائیں گی، جس کے بعد فائنل کھیلا جائے گا۔
ٹی20 ورلڈ کپ 2026 تاریخ میں پہلی بار 12 ٹیموں پر مشتمل ہوگا، جو 2024 میں ہونے والے ٹورنامنٹ کی 10 ٹیموں سے زیادہ ہیں۔ نیوزی لینڈ دفاعی چیمپیئن ہے، جس نے پچھلے سال فائنل میں جنوبی افریقا کو شکست دی تھی۔
ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 جون اور جولائی میں انگلینڈ اینڈ ویلز میں منعقد ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹی20 ورلڈ کپ
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔