WE News:
2026-07-24@09:51:45 GMT

پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے مون سون فلڈ فیکٹ شیٹ جاری

اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT

پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے مون سون فلڈ فیکٹ شیٹ جاری

وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات پر پی ڈی ایم اے پنجاب نے مون سون فلڈ کی صورتحال کے حوالے سے فیکٹ شیٹ جاری کردی ۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں فیصل آباد 100 میں ملی میٹر، گجرانوالہ 47 اور جھنگ میں 18 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ آئندہ 24 گھنٹوں میں لاہور راولپنڈی سمیت پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارشیں متوقع ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا: بارشوں اور فلش فلڈ سے 13 افراد جاں بحق، پی ڈی ایم اے

ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے انتظامیہ کو ہدایات دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہر طرح کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہیں، دریائے چناب میں مرالہ نچلے درجے کا سیلاب جبکہ خانکی اور قادر آباد کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے ۔

دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ گزشتہ روز کی نسبت کم ہوا ہے اوردریائے چناب میں بہاؤ 2 لاکھ 15 ہزار کیوسک سے کم ہو کر 1 لاکھ 70 ہزار کیوسک ہو گیا ہے۔

تر جمان کے مطابق دریائے چناب کے پانی میں اضافے کو پی ڈی ایم اے پنجاب 24 گھنٹے مانیٹر کررہا ہے ۔ ڈی جی نے بتایا کہ پی ڈی ایم اے پنجاب محکمہ آبپاشی ارسا و دیگر متعلقہ محکموں سے مسلسل رابطے میں ہے، دریائے سندھ میں تربیلا، کالا باغ ، چشمہ اور تونسہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے جبکہ دریائے جہلم راوی اور ستلج میں پانی کا بہا ونارمل سطح پر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ڈی ایم اے کی پیشگوئی، پنجاب کے کن شہروں میں بارشوں کا امکان ہے؟

دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر 30 ہزار 690 شاہدرہ 14 ہزار بلوکی 32 ہزار جبکہ سدھنائی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 18 ہزار کیوسک تک ہے ۔

اس کے ساتھ ساتھ رودکوہیوں اور بڑے دریاؤں سے ملحقہ ندی نالوں میں بھی پانی کا بہاونارمل سطح پر ہے۔

تربیلا ڈیم 87 فیصد جبکہ منگلا ڈیم 58 فیصد تک بھر چکا ہے۔ترجمان کے مطابق بھارتی ڈیمز میں پانی کی سطح 43فیصد تک ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے کہا ہے کہ موسم برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

تر جمان کے مطابق برساتی نالوں میں نہاتے ہوئے ڈوبنے سے 4 خواتین اور 1 بچہ جاں بحق ہوئے جبکہ رواں سال مون سون بارشوں کے باعث اب تک مختلف حادثات میں 162 شہری جاںبحق، 558شہری زخمی ،214 گھر متاثراور121مویشی ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مون سون برسات، پی ڈی ایم اے عوام سے رابطے میں رہے،مریم نواز

ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق وزیر اعلی پنجاب کی ہدایات کے پیشِ نظر متاثرہ فیملیز کو مالی معاونت فراہم کی جارہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news پاکستان پنجاب پی ڈی ایم اے دریائے چناب دریائے راوی فیکٹ شیٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان پی ڈی ایم اے دریائے چناب دریائے راوی فیکٹ شیٹ پی ڈی ایم اے پنجاب دریائے چناب کے مقام پر کے مطابق پانی کا

پڑھیں:

گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری

 گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔

محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔

مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔

روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔

استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔

ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔

حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان

متعلقہ مضامین

  • دریائے چناب میں سیلاب، تریموں ہیڈ پر پانی کی سطح بلند، چنیوٹ میں نہر میں شگاف سے فصلیں زیر آب
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب