خیبر پختونخوا سینیٹ الیکشن، پی ٹی آئی کی مشال یوسفزئی کامیاب
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
اپوزیشن کی مشترکہ امیدوار مہتاب ظفر نے 53 ووٹ حاصل کیے جبکہ پی ٹی آئی کی مشال یوسفزئی نے 86 ووٹ حاصل کیے، آزاد امیدوار صائمہ خالد نے ایک ووٹ حاصل کیا جبکہ دو ووٹ مسترد کیے گئے۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے سینیٹ الیکشن میں تحریک انصاف کی رہنماء مشال یوسفزئی کامیاب ہوگئیں۔ اپوزیشن کی مشترکہ امیدوار مہتاب ظفر نے 53 ووٹ حاصل کیے جبکہ پی ٹی آئی کی مشال یوسفزئی نے 86 ووٹ حاصل کیے، آزاد امیدوار صائمہ خالد نے ایک ووٹ حاصل کیا جبکہ دو ووٹ مسترد کیے گئے۔ سینیٹ الیکشن جیتنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مشال یوسفزئی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے مجھ پر اعتماد کیا اور ملک کی کم عمر ترین سینیٹر بن گئی، وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے بھرپور سپورٹ کیا جبکہ بیرسٹر گوہر، رہنماؤں اور ورکرز کی شکر گزار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے تین ووٹ مسترد ہوئے، ایک ایم پی اے بیمار بھی ہے، ہمارا کوئی ووٹ کسی اور امیدوار کو نہیں ملا۔
مشال یوسفزئی نے کہا کہ میرے لیڈر کا دیا ہوا اعزاز ہے، میری پانچ ماہ سے اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں ہوئی، مشعل کو ووٹ نہیں ملا بلکہ نظریہ عمران کے وژن کو ووٹ دیا گیا ہے۔ پولنگ کے بعد وزیر اعلی خیبر پختونخواٰ اسمبلی سے روانہ ہوگئے۔ صحافیوں نے پی ٹی آئی سزاوں سے متعلق سوال کیا جس پر انہوں نے کہا کہ سینیٹ انتخابات پر ابھی گنتی جاری ہے، کچھ کمنٹ نہیں کر سکتا۔ وزیر اعلی جواب دیے بغیر روانہ ہوگئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مشال یوسفزئی نے ووٹ حاصل کیے پی ٹی آئی نے کہا کہ
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔