Daily Mumtaz:
2026-07-24@09:24:04 GMT

بھارتی ریفائنریز نے روسی تیل کی خریداری روک دی

اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT

بھارتی ریفائنریز نے روسی تیل کی خریداری روک دی

نئی دہلی(نیوز ڈیسک) بھارتی ریفائنریز نے پچھلے ہفتے سے روسی تیل کی خریداری روک دی، کیونکہ رواں ماہ ماسکو سے ملنے والی رعایتیں کم ہوگئیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ممالک کو روس سے تیل خریدنے سے خبردار کیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل درآمد کرنے والا ملک بھارت روسی خام تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، جو ماسکو کے لیے یوکرین کے خلاف چوتھے سال کی جنگ میں اہم آمدنی کا ذریعہ ہے۔

ریفائنریز کے منصوبوں سے واقف 4 ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ بھارت کی ریاستی ریفائنریز نے پچھلے ایک ہفتے یا اس سے زیادہ عرصے سے روسی خام تیل کی خریداری نہیں کی، جن میں انڈین آئل کارپوریشن (آئی او سی)، ہندوستان پٹرولیم کارپوریشن (ایچ پی سی ایل)، بھارت پٹرولیم کارپوریشن (بی پی سی ایل) اور منگلور ریفائنری پیٹروکیمیکل لمیٹڈ (ایم آر پی ایل) شامل ہیں۔

انڈین آئل کارپوریشن، ہندوستان پٹرولیم کارپوریشن، بھارت پٹرولیم کارپوریشن، منگلور ریفائنری پیٹروکیمیکل لمیٹڈ اور وفاقی تیل وزارت نے رائٹرز کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

ذرائع نے بتایا کہ چاروں ریفائنریز باقاعدگی سے روسی تیل کی خریداری کرتی ہیں وہ اب اس کے متبادل کے لیے اسپاٹ مارکیٹس کی طرف رجوع کر رہی ہیں، جن کی زیادہ تر توجہ مشرق وسطیٰ کے گریڈ جیسے ابو ظبی کا مرابن خام تیل اور مغربی افریقی تیل پر مرکوز ہے۔

نجی ریفائنرز، جیسے ریلائنس انڈسٹریز اور نیارا انرجی، جو روسی کمپنیوں، بشمول روسنفت، کی اکثریتی ملکیت ہیں، ماسکو کے ساتھ سالانہ معاہدے رکھتے ہیں اور بھارت میں روسی تیل کے سب سے بڑے خریدار ہیں۔

واضح رہے کہ 14 جولائی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماسکو کا یوکرین کے ساتھ بڑا امن معاہدہ نہ ہونے تک روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد ٹیرف لگانے کی دھمکی دی تھی۔

ذرائع کے مطابق بھارتی ریفائنرز روسی خام تیل سے پیچھے ہٹ رہے ہیں کیونکہ رعایتیں 2022 کے بعد اپنی کم ترین سطح تک پہنچ گئی ہیں، جب ماسکو پر مغربی پابندیاں عائد کی گئیں، جس کی وجہ کم روسی برآمدات اور مستحکم طلب تھی۔

واضح رہے کہ 30 جولائی (گزشتہ روز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ روس سے مسلسل فوجی ساز و سامان اور تیل کی خریداری پر بھارت پر جرمانہ بھی عائد کر تھا۔

اس سے قبل پیر کو ماسکو کے یوکرین کے ساتھ امن معاہدہ نہ کرنے کی صورت میں ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی برآمدات پر پابندیاں عائد کرنے کی مدت 50 دن سے کم کر کے 10 سے 12 دن کر دی تھی۔

روس بھارت کو تیل کی مجموعی سپلائی کا تقریباً 35 فیصد برآمد کرتا ہے۔

نجی ریفائنرز نے 2025 کی پہلی ششماہی میں بھارت کی اوسط 1.

8 ملین بیرل یومیہ روسی تیل کی درآمدات کا تقریباً 60 فیصد خریدا، جبکہ ریاستی ریفائنرز جن کے پاس بھارت کی مجموعی 5.2 ملین بیرل یومیہ ریفائننگ صلاحیت کا 60 فیصد سے زیادہ ہے، باقی تیل درآمد کیا۔

تاجروں نے بتایا کہ ریلائنس نے اس ماہ اکتوبر کے لیے ابو ظبی کا مرابن خام تیل خریدا، جو ریفائنر کے لیے ایک غیر معمولی قدم تھا۔

Post Views: 8

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: تیل کی خریداری ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی تیل کی خام تیل کے لیے

پڑھیں:

’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘

طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔

سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔

دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
 

متعلقہ مضامین

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت