صحرائے چولستان میں واقع پانچ ہزار سال پرانے گمشدہ شہر گنویری والا کی کھدائی اور تحقیق کا کام فنڈز نہ ملنے کے باعث کئی ماہ سے بند پڑا ہے۔

ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ حکومتی عدم تعاون کے باعث وادی سندھ کی تہذیب سے جڑے اس اہم مقام کو عالمی سطح پر روشناس کروانے کا موقع ضائع ہورہا ہے۔

گنویری والا کا سراغ سب سے پہلے 1975 میں معروف ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر محمد رفیق مغل نے لگایا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ مقام وادی سندھ کے قدیم شہروں ہڑپہ اور موہنجوداڑو کے بعد تیسرا بڑا شہری مرکز تھا، جو قلعہ دراوڑ سے تقریباً 60 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔
پنجاب کے مختلف اداروں سے تعلق رکھنے والے سابق ڈائریکٹرز اور ماہرین پر مشتمل ٹیم نے 24 فروری 2024 کو کھدائی کا آغاز کیا۔

منصوبے کی سربراہی تھاپ کی چیئرپرسن ساجدہ حیدر ونڈل کر رہی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شدید گرمی اور صحرائی ماحول کے باوجود ٹیم نے محنت سے کام کیا اور پاکستان کے ممتاز ماہرین، بشمول ڈاکٹر رفیق مغل، کو اس قومی منصوبے کا حصہ بنایا۔

کھدائی کے دوران مختلف مقامات سے برتن، اینٹوں کی دیواریں، مٹی کے مجسمے، تانبے کی مہریں اور دیگر نوادرات برآمد ہوئے۔ ڈاکٹر مغل کے مطابق یہ آثار وادی سندھ کی تہذیب سے مماثلت رکھتے ہیں اور ان سے گنویری والا کی قدامت اور اہمیت کی تصدیق ہوتی ہے۔

سابق ڈائریکٹر آثار قدیمہ افضل خان نے بتایا کہ کھدائی کے لیے 60 سے زائد مزدوروں کی خدمات لی گئیں، خیمہ بستی قائم کی گئی، اور 6 مقامات پر کھدائی کی گئی۔ تاہم مارچ کے آخر میں گرمی کی شدت بڑھنے اور لیبر کی روانگی کے بعد کام سست پڑگیا۔ اس دوران ٹیم نے کمشنر بہاولپور آفس کو تفصیلی اخراجات جمع کروائے لیکن مبینہ اعتراضات کی بنیاد پر فنڈز روک دیے گئے۔

ساجدہ ونڈل کے مطابق حکومت نے منصوبے کے لیے دو کروڑ روپے منظور کیے تھے جو کمشنر بہاولپور کے ذریعے جاری ہونے تھے، مگر ٹیم کو اب تک ایک روپیہ بھی موصول نہیں ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ کھدائی کا دوسرا مرحلہ اکتوبر 2024 میں شروع ہونا تھا لیکن فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث وہ بھی ممکن نہ ہو سکا۔

افضل خان نے بتایا کہ 30 جون 2024 کو سرکاری مالی سال کے اختتام پر فنڈز واپس سرنڈر ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ اب دنیا بھر سے ماہرین دریافتوں کی تفصیلات پوچھتے ہیں، مگر ہمارے پاس جواب نہیں۔

پنجاب آرکیالوجی کے سابق ڈائریکٹر محمد حسن نے اس مقام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چولستان میں موجود تقریباً 500 آثار قدیمہ کی سائٹس میں گنویری والا سب سے نمایاں ہے۔ یہ علاقہ دریائے ہاکڑہ کے کنارے آباد تھا، جہاں کے باسی کھیتی باڑی اور مویشی پالنے سے وابستہ تھے۔

دوسری جانب کمشنر بہاولپور مسرت جبین نے اس بات کی تصدیق کی کہ ٹیم کو فنڈز جاری نہیں کیے گئے۔ ان کا مؤقف ہے کہ معاہدے کے مطابق نوادرات کا بین الاقوامی سطح پر تجزیہ کروا کر انہیں بہاولپور میوزیم کے حوالے کرنا تھا، مگر ٹیم نے یہ نوادرات لاہور منتقل کر دیے اور تاحال کسی عالمی لیبارٹری کی رپورٹ بھی پیش نہیں کی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی معیار کی تحقیق کے لیے حکومت کو رکاوٹیں نہیں بلکہ سہولتیں پیدا کرنی چاہئیں، تاکہ پاکستان کا قیمتی ثقافتی ورثہ محفوظ اور دنیا کے سامنے آسکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ گنویری والا کے مطابق ٹیم نے

پڑھیں:

چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت

دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔

مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139  نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • 20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
  • فرانس میں جنگلاتی آگ نے 43 ہزار افراد کو انخلا پر مجبور کردیا
  • اسلام آباد کچہری میں سموسے کیساتھ چٹنی نہ ملنے پر ہنگامہ
  • کراچی: کیماڑی سے اغواء 7 سالہ بچی کیساتھ قتل سے پہلے زیادتی کی تصدیق
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا