عوام علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے ریمدان بارڈر پر احتجاج میں شامل ہونگے، علامہ صادق جعفری
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
احتجاجی ماتمی ریلی سے خطاب میں ایم ڈبلیو ایم رہنماؤں نے کہا کہ زیارات پر جانا ہمارا بنیادی حق ہے، ہم اس سے عوام کو محروم نہیں ہونے دیں گے، یہ کوئی سیاسی احتجاج نہیں بلکہ امام حسین علیہ السلام کے عشق میں ہوگا، لوگ احتجاج کریں گے اور اسکی ذمہ دار حکومت ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن ضلع غربی کی جانب سے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے ریمدان بارڈر کی طرف لانگ مارچ کے اعلان کی حمایت میں اور چہلم امام حسینؑ کے موقع پر زمینی راستوں پر پابندی خلاف نماز جمعہ کے جامع مسجد حیدری اورنگی ٹاؤن نمبر 10 کراچی سے احتجاجی ماتمی ریلی نکالی گئی جس سے علامہ محمد صادق جعفری اور علامہ حیات عباس نجفی نے خطاب کیا۔ ریلی میں بڑی تعداد میں عمائدین نے شرکت کی اور لبیک یاحسینؑ کے نعروں سمیت زائرین کے زمینی راستوں پر لگائی جانے والی حکومتی بیجا پابندی کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین سے خطاب میں علامہ صادق جعفری کا کہنا تھا کہ حکومت کی غفلت کی وجہ سے پہلے حجاج اور اب زائرین زیارات پر جانے سے محروم ہو رہے ہیں، ملک کو مسلکی پاکستان نہیں بننے دیں گے، ریاست کو اپنے شہریوں کو سہولت دینا چاہیئے، ہماری حکومتیں اہل تشیع کے بنیادی حقوق کیلئے معاونت نہیں کرتیں، پاکستان کے زائرین کو روکنے کیلئے کسی اسٹیک ہولڈر سے مشاورت نہیں کی گئی، حکومت کے فیصلے کے مطابق زائرین نے ٹکٹ، ہوٹلز اور ویزوں کے مد میں ارب روپے انویسٹ کئے، حکومت کو یہ پرواہ ہی نہیں کہ کروڑوں لوگ آپ سے نفرت کریں گے، رستے محفوظ نہیں کر سکتے تو حکومت چھوڑ دیں، مذہبی آزادی پر قدغن لگانا آئین کے آرٹیکل 20 کی خلاف ورزی ہے، ہماری مذہبی آزادی کو پامال کیا گیا ہے۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کے وہ عوام کے حقوق کا تحفظ کرے، نواسہ رسولؑ کے چہلم کی مناسبت سے صدیوں سے لوگ پیدل، سمندری ہوائی راستوں سے زیارات پر جاتے ہیں۔ رہنماؤں نے کہا کہ وزیر داخلہ کچھ عرصہ قبل ایران گئے جہاں ایران اور عراق کے وزراء بیٹھے اور زائرین کی خدمت کیلئے اقدامات کے حوالے سے بات چیت کی گئی، 24 گھنٹے مسلسل بارڈرز کھولنے کا بھی اعلان کیا گیا، ملاقاتوں کے کچھ عرصے بعد یہ پتا چلا کہ زائرین زمینی راستوں سے زیارات پر نہیں جاسکتے، اس سے پہلے حکومت کی نااہلی کی وجہ سے 67 ہزار لوگ حج سے محروم رہ گئے اور اب حکومت زائرین کو زیارات پر جانے سے روک رہی ہے، حکومتی پابندی کو کسی صرورت قبول نہیں کریں گے، اگر حکومت راستہ ہی محفوظ نہیں بنا سکتی تو اسکا مطلب ہے کہ حکومت فیل ہو چکی ہے، زیارات پر جانا ہمارا بنیادی حق ہے، ہم اس سے عوام کو محروم نہیں ہونے دیں گے، یہ کوئی سیاسی احتجاج نہیں بلکہ امام حسین علیہ السلام کے عشق میں ہوگا، لوگ احتجاج کریں گے اور اسکی ذمہ دار حکومت ہوگی، صدر، وزیراعظم اور وزیر داخلہ کہاں ہیں؟ عوام سڑکوں پر ہے، ہم ہرگز غیر قانونی، غیر آئینی اور غیر اخلاقی اقدام کو قبول نہیں کریں گے، ملکی عوام علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے ریمدان بارڈر پر پر امن احتجاج ہر کہتے ہوئے اس میں شامل ہونگے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس