عمران خان نے خود جلاوطنی کی درخواست کی، ہم نے مسترد کیا، وزیرِ مملکت حذیفہ رحمان کا تہلکہ خیز انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT
عمران خان نے خود جلاوطنی کی درخواست کی، ہم نے مسترد کیا، وزیرِ مملکت حذیفہ رحمان کا تہلکہ خیز انکشاف WhatsAppFacebookTwitter 0 2 August, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:وزیرِ مملکت برائے قومی ثقافت و ورثہ حذیفہ رحمان نے سابق وزیراعظم اور بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حوالے سے بڑا دعویٰ کر دیا ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان نے خود حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے درخواست کی تھی کہ اگر کوئی ڈیل ہونی ہے تو انہیں برطانیہ یا کسی یورپی ملک میں بھیج دیا جائے۔
نجی ٹیلی وی چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حذیفہ رحمان نے کہا کہ ہم نے ظرف کا مظاہرہ کیا اور یہ بات آج تک عوام سے چھپائے رکھی، لیکن اب سچ بتانا ضروری ہو گیا ہے۔ بانی پی ٹی آئی نے ہم سے بات کی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے پر برطانوی حکومت نے بھی باضابطہ آمادگی ظاہر کی تھی کہ اگر عمران خان کو ان کے حوالے کیا جائے تو وہ تیار ہیں۔ تاہم حکومت پاکستان اور اسٹیبلشمنٹ نے یہ تجویز مسترد کر دی۔
وزیرِ مملکت کے مطابق ہم نے صاف طور پر کہا کہ ہم آپ کو یورپ یا برطانیہ نہیں بھیج سکتے، اگر جانا ہے تو گلف کے کسی ملک کا انتخاب کریں۔
حذیفہ رحمان کے مطابق یہ متبادل پیش کیا گیا، جسے بانی پی ٹی آئی نے ٹھکرا دیا۔ بعد ازاں انہوں نے اسے جلاوطنی کی کوشش قرار دے کر عوام کے سامنے پیش کیا۔
حذیفہ رحمان نے مزید کہا کہ اس پوری گفتگو کے ثبوت اور ریکارڈنگ موجود ہیں، اور اگر ضرورت پڑی تو انہیں منظرِ عام پر لایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے خاموشی اختیار کی تھی، لیکن بانی پی ٹی آئی کے مسلسل بیانیے اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوششوں کے بعد اب حقائق بیان کرنا ضروری ہو چکا ہے۔
اس بیان پر پی ٹی آئی کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرتوشہ خانہ کیس ٹو میں گواہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیب کا بیان قلم بند توشہ خانہ کیس ٹو میں گواہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیب کا بیان قلم بند ایرانی صدر مسعود پزشکیان اعلیٰ سطح کے وفد کیساتھ 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے غذر: ایک شخص کو بچانے کی کوشش میں 3 افراد دریا میں ڈوب گئے تحریک تحفظ آئین کی اے پی سی کے اعلامیے پر بی ایل اے کی چھاپ شرمناک ہے، عرفان صدیقی خیبرپختونخوا: لکی مروت میں مارٹر گولا پھٹنے سے 3 بچے جاں بحق عمران خان کے ہیپاٹائٹس سے متاثر ہونے کا خدشہ، سپرینڈنٹ اڈیالہ جیل کا اہم بیان سامنے آگیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: حذیفہ رحمان
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔