حسینہ کی معزولی کے ایک سال بعد بھی بنگلہ دیش منقسم کیوں؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 اگست 2025ء) بنگلہ دیش میں سابقہ وزیر اعظم شیخ حسینہ کی جلاوطنی کے بعد عبوری حکومت، انتخابی غیر یقینی، انسانی حقوق اور اسلام پسندوں کی سرگرمیوں میں اضافے سے متعلق تحفظات کے اظہار کا سلسلہ جاری ہے۔
اگست 2024 میں بنگلہ دیش کی طویل عرصے سے برسر اقتدار وزیرِاعظم شیخ حسینہ نے حکومت مخالف پر تشدد احتجاج کے بعد استعفیٰ دیا اور بھارت چلی گئیں۔
ان مظاہروں کی ابتدا سرکاری ملازمتوں میں متنازع کوٹہ نظام کے خلاف ہوئی تھی، مگر یہ وسیع تر عوامی تحریک میں بدل گئے۔ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کے رہنما یا تو گرفتار ہوئے یا روپوش ہوگئے، جبکہ اپوزیشن بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) دوبارہ سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن چکی ہے۔(جاری ہے)
بی این پی کی سربراہ خالدہ ضیا اور دیگر رہنما، جو حسینہ دور میں بدعنوانی اور تشدد جیسے الزامات میں قید تھے، اب آزاد ہیں۔
پارٹی رہنما عبدالسلام نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ سیاسی آزادی بحال ہوئی ہے مگر عام عوام کے لیے حالات اب بھی غیر یقینی ہیں۔دارالحکومت ڈھاکہ میں گارمنٹ ورکر امبیہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ طلبہ کی تحریک نے امید پیدا کی، مگر بدامنی اور سیاسی جماعتوں کی موقع پرستی اب بھی جاری ہے۔
عبوری حکومت کی قیادت نوبل انعام یافتہ محمد یونس کر رہے ہیں، جنہوں نے ابتدائی طور پر اپریل 2026 میں انتخابات کا وعدہ کیا، لیکن بی این پی اور اتحادی جماعتیں فروری میں انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
انسانی حقوق کے محاذ پر بہتری کی امیدیں پوری نہیں ہو سکیں۔ ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) کا کہنا ہے کہ اگرچہ جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل جیسے جرائم میں کمی آئی ہے مگر اب بھی سیاسی مخالفین کو بلاجواز گرفتار کیا جا رہا ہے اور عدالتی و صحافتی اصلاحات سست روی کا شکار ہیں۔
ایک نئی پیش رفت میں محمد یونس کی حکومت نے سب سے بڑی اسلام پسند جماعت پر سے پابندی ہٹا لی ہے، جس کے بعد ''حفاظتِ اسلام‘‘ جیسی تنظیموں کی عوامی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔
ان گروہوں نے خواتین کے مساوی وراثتی حقوق، تعدد ازدواج پر پابندی اور جنسی کارکنوں کی قانونی حیثیت جیسے مجوزہ اصلاحات کے خلاف ہزاروں افراد پر مشتمل مظاہرے کیے۔سرکاری ترجمان فویز احمد نے ایچ آر ڈبلیو کی تنقید کو جزوی طور پر تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں مکمل ختم نہیں ہوئیں لیکن ان کے بقول حسینہ دور کے مقابلے میں ان خلاف ورزیوں میں اب نمایاں کمی آئی ہے۔
ان کے مطابق بند کیے گئے میڈیا ادارے دوبارہ کھل چکے ہیں اور لوگ سرکاری نشریاتی اداروں پر بھی حکومت پر تنقید کر رہے ہیں، جو پہلے ممکن نہ تھا۔دوسری جانب حسینہ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ عبوری حکومت خود عوامی لیگ کے خلاف انتقامی کارروائیاں کر رہی ہے۔ عوامی لیگ پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے جب تک کہ ایک خصوصی ٹریبیونل گزشتہ سال کے پرتشدد واقعات میں اس کی مبینہ ذمہ داری پر فیصلہ نہ سنا دے۔
سابق وزیرِ اطلاعات محمد عرفات نے الزام عائد کیا ہے کہ یونس اقتدار طول دینے کے لیے اسلام پسندوں اور نیشنل سٹیزنز پارٹی کو خوش کر رہے ہیں، جو عوامی لیگ پر پابندی کے سب سے بڑے حامی ہیں۔
اقتصادی لحاظ سے عبوری حکومت نے کچھ کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن میں نوجوانوں کے لیے تربیتی پروگرام اور غیرملکی سرمایہ کاری کی کوششیں شامل ہیں۔
سب سے نمایاں پیش رفت امریکہ سے حاصل کردہ رعایتی 20 فیصد درآمدی ٹیرف ہے، جو سات اگست سے نافذ العمل ہوگا اور بنگلہ دیش کی گارمنٹ انڈسٹری کو خطے کے دیگر ممالک کے برابر مقابلے کی سہولت دے گا۔مجموعی طور پر، حسینہ کی رخصتی کے بعد بنگلہ دیش میں سیاسی آزادی کا تاثر ضرور پیدا ہوا ہے، مگر انسانی حقوق، انتخابی شفافیت اور مذہبی شدت پسندی جیسے چیلنجز اب بھی حل طلب ہیں۔
عرفات اسلام، شکور رحیم
ادارت: عرفان آفتاب
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے عبوری حکومت بنگلہ دیش عوامی لیگ حسینہ کی کے بعد اب بھی
پڑھیں:
گندم کی بمپر فصل ہوئی تھی تو پنجاب و سندھ خریداری کا ہدف حاصل کیوں نہ کرسکے، مزمل اسلم
خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے گندم بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر رواں سال گندم کی بمپر فصل ہوئی تھی تو پھر پنجاب اور سندھ دونوں اپنے گندم خریداری کے ہدف کا بمشکل 15 فیصد ہی حاصل کیوں نہ کرسکے۔
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ گندم کی مارکیٹ میں قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں لیکن متعلقہ اداروں نے بروقت کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر وہ کون سے ذخیرہ اندوز تھے جنہوں نے اس عرصے میں مارکیٹ سے بڑی مقدار میں گندم خرید کر ذخیرہ کی، جس کے باعث کسان کو اس کی محنت کا مناسب معاوضہ نہ مل سکا جبکہ صارفین بھی مہنگی گندم خریدنے پر مجبور ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سنگین غفلت کی ذمہ داری بھی کسی نہ کسی کو قبول کرنا ہوگی، نئے گندم سیزن میں ابھی 8 سے 9 ماہ باقی ہیں، اگر اس دوران گندم درآمد کرنا پڑی تو اس پر قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوگا، جس سے ملکی معیشت پر مزید دباؤ بڑھے گا۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر ردعمل دیتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی تو کم از کم تقریباً 1,700 ارب روپے کی پیٹرولیم لیوی میں عارضی کمی کر کے عوام کو فوری ریلیف فراہم کرے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ دنوں کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 21 روپے، ڈیزل کی قیمت میں 56 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس نے عوام کی مشکلات میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔
مزمل اسلم نے کہا کہ موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے باعث عوام مسلسل مہنگائی کے شدید جھٹکے برداشت کر رہے ہیں اور یہ اثرات تاقیامت یاد رکھے جائیں گے۔
انہوں نے سوال کیا کہ حکومت کی اتحادی جماعتیں آخر کس کارکردگی کی بنیاد پر کشمیر انتخابات میں عوام سے ووٹ مانگ رہی ہیں۔
مشیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی کا طوفان آنے والا نہیں بلکہ آ چکا ہے، وفاقی محکمہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ٹماٹر کی قیمت میں 253 فیصد، پیاز 81 فیصد، آٹا 74 فیصد، ایل پی جی 46 فیصد، پیٹرول اور ڈیزل 32 فیصد اور بجلی کے نرخوں میں 23 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اسی طرح حساس قیمتوں کے اشاریے کے مطابق ایک ہفتے کے دوران مہنگائی میں 0.91 فیصد اور سالانہ بنیادوں پر 9.66 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔