حکومت نے مزید 2 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا آرڈر دےدیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی کے ترجمان نے بتایا کہ یہ فیصلہ چینی کی قیمتوں میں استحکام اور عوام کو ریلیف فراہم کرنےکے لیےکیاگیا اور اس کا مقصد مارکیٹ میں چینی کی دستیابی کویقینی بنانا اور قیمتوں میں توازن برقرار رکھنا ہے۔
ترجمان کے مطابق چینی کی امپورٹ ٹینڈر کھلنےکےبعد حتمی مرحلے میں داخل ہوگئی ہے، درآمد شدہ چینی کی پہلی شپمنٹ ستمبر کے اوائل میں پاکستان پہنچےگی۔ترجمان کا کہنا تھاکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں خریداری کے وقت کامیابی سے ڈسکاؤنٹ بھی حاصل کیاگیا ہے۔ادھر وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کو ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی اور خفیہ اسٹاک کا پتا لگانے کی ہدایات جاری کردیں۔وفاقی حکومت نے ذخیرہ اندوزی میں ملوث ڈیلروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنےکا بھی حکم دے دیا۔
چینی کی سب سے بڑی تھوک منڈی اکبری مارکیٹ کے تاجروں کاکہنا ہےکہ شوگر ملوں کی طرف سے چینی فروخت ہی نہیں کی جارہی، شوگر ڈیلرز نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں چینی کی قیمت اور قلت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
پنجاب کے 21 ویں گریڈ کے افسر نے آئی جی بلوچستان بننے سے معذرت کرلی سورس: ڈان اخبار کا دعویٰ
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: چینی کی
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔